دلی میں فسادات اور جھڑپوں کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک

شائع 25 فروری 2020 07:23pm

بھارت کے شہر دلی میں ہونے والے مظاہرےفسادات کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔پولیس کی سرپرستی میں انتہا پسند ہندو مساجد، گھر اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔جھڑپوں میں 13 افراد ہلاک ہوگئےہیں۔جبکہ بھارتی سرکارنےدلی میں دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مار دینے کا حکم ہے۔دلی کے تمام اسکول،جامعات اور سرکاری دفاتر بند کردیے گئے ہیں۔

 بھارت میں متنازع قانون کیخلاف مظاہرے شدت اختیارکرچکےہیں۔ مسلمانوں پر حملوں کے بعد نئی دلی میدان جنگ بن گیا ہے۔

 ظلم کی یہ داستان عین اس وقت زیادہ شدت اختیار کرگئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو روزہ دورے پر بھارت پہنچے۔

 آر ایس ایس کے انتہاپسند ہندوؤں نے مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔ کئی ہلاکتیں ہوئیں بیشتر افراد زخمی ہوگئے۔ گھروں کو نذر آتش کردیا گیا۔مساجد کی حرمت پامال کی جارہی ہے۔ بھارتی پولیس نہتے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔

 پوری دنیا بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔ لوگوں کو روک روک کر ان کا مذہب پوچھا جانے لگا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس جیسی درجنوں وڈیوز موجود ہیں۔

بھارتی پولیس اہلکار مسلم نوجوانوں کو جے شری رام کے نعرے لگانےپر مجبور کررہے ہیں۔ انتہاپسند ہندوں کو بھارتی پولیس کی سرپرستی حاصل ہے۔

 یہ انتہاپسند ہندو متنازع قانون کےخلاف احتجاج کرنے والے افراد کو مار رہے ہیں۔ ان کے پنڈال اور شامیانے اکھاڑ رہے ہیں۔

 ایسے وقت میں جب امریکی صدر کا بھارت میں انتہائی اہم دورہ تھا۔

 بھارت میں اٹھتے فسادات اور ہلاکتوں نے مودی سرکار کےسیکولرازم کا پول پوری طرح کھول دیا ہے۔