پاکستان کے ذریعے ایران کی نئی تجاویز امریکا تک پہنچا دی گئیں، مذاکرات میں اختلافات برقرار
پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایران کی جانب سے تیار کردہ نظرِثانی شدہ تجویز امریکا تک پہنچا دی ہے جب کہ جنگ بندی سے متعلق مذاکرات میں اب بھی اختلافات برقرار ہیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ تہران کا مؤقف پاکستانی ثالثی کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچایا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک پاکستانی ذریعے نے پیر کے روز بتایا کہ پاکستان نے ایران کی نئی تجاویز امریکا کے ساتھ شیئر کر دی ہیں تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے اور دونوں فریق اپنے مؤقف میں مسلسل تبدیلیاں کر رہے ہیں۔ پاکستانی ذریعے نے کہا کہ ”ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں“ جب کہ اختلافات کم کرنے کے عمل کو بھی مشکل قرار دیا گیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ تہران کے خیالات ”پاکستانی ثالث کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچا دیے گئے ہیں“۔
گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اپریل کے اوائل میں ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی ”انتہائی نازک صورت حال“ میں ہے کیوں کہ ایران کے جواب سے واضح ہوا کہ کئی اہم معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اب بھی گہرے اختلافات موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کا جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول ہے، جہاں ایران نے جہاز رانی محدود کر رکھی ہے۔ یہ سمندری راستہ دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ خطے میں ہر محاذ پر جنگ ختم کی جائے، جس میں لبنان بھی شامل ہے جہاں اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ ”مستقل جنگ بندی“ سے قبل وہ اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت نہیں کرے گا۔
ایران نے جنگی نقصانات کے ازالے، امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے، آئندہ حملوں کی ضمانت نہ دینے اور ایرانی تیل کی فروخت بحال کرنے کے مطالبات بھی رکھے ہیں۔
ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران ہر ممکن صورت حال کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مخالف فریق کی کسی بھی ”چھوٹی غلطی“ کا مناسب جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے تھے، جن کا مقصد ایرانی میزائل پروگرام کو ختم کرنا بتایا گیا تھا، ان حملوں کے وقت امریکا اور ایران کے درمیان جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات بھی جاری تھے۔ ایران نے جواب میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور اثاثوں کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔
2 مارچ کو جنگ کا دائرہ لبنان تک پھیل گیا تھا، جب حزب اللہ نے جنوبی لبنان سے اسرائیلی اہداف پر راکٹ اور ڈرون حملے کیے۔ گروپ کا کہنا تھا کہ یہ حملے ایران کی قیادت کے خلاف کارروائیوں کے ردعمل میں کیے گئے۔
4 مارچ کو ایران نے آبنائے ہرمز پر مؤثر ناکہ بندی کر دی تھی، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ اس اقدام کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہوئی۔
8 اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان 14 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، جس میں بعد ازاں پاکستان کی ثالثی سے توسیع بھی کی گئی جب کہ 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔ 13 اپریل کو امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی عائد کی، جس کا مقصد ایران کی معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنا تھا۔
20 اور 21 اپریل کو مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں طے تھا تاہم امریکی صدر نے وفد کے دورے کو منسوخ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات ٹیلی فون کے ذریعے کیے جائیں گے جب کہ ایرانی حکام نے بھی اس دور میں شرکت سے گریز کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششیں بھی جاری رہیں تاہم اب تک کسی حتمی معاہدے تک پیش رفت نہیں ہو سکی۔
















