وزیر اعظم کی پیٹرول بحران میں ملوث ذمہ داران کیخلاف کارروائی کی ہدایت
وزیر اعظم عمران خان- فائل فوٹووزیراعظم عمران خان کو پٹرول بحران کے حوالے سے رپورٹ پیش کر دی گئی۔ 9 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے جان بوجھ کر بحران پیدا کیا۔ وزیراعظم نے پیٹرول بحران میں ملوث کمپنیوں اورذمہ داران کے خلاف کاروائی کی ہدایت کردی۔ کمپنیوں کے لائسنس، ملوث افراد کو گرفتار اورذخیرہ شدہ پیٹرول مارکیٹ میں سپلائی کرنے کا حکم دے دیا۔
ملک میں پیٹرول کا بحران مصنوعی قرار، وزیراعظم عمران خان کو رپورٹ پیش کردی گئی ۔پیٹرول بحران کے ذمہ داروں کا تعین بھی کر دیا گیا۔اوگرا نے پیٹرول بحران کی ذمہ داری پیٹرولیم ڈویژن پر عائد کر دی۔
رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے پی ایس او، حیسکول، پی ایم سی کمپنیوں کے آئل ڈپوز کا دورہ کیا اور ذخائر کا معائنہ کیا۔ تمام کمپنیوں کے پاس پٹرول کے وافر ذخائر موجود تھے۔تیل کی مصنوعی قلت میں ملوث کمپنیوں کو اظہار وجوہ کے نوٹسز جاری کیے جائیں۔ایک ماہ میں تیل کی سپلائی بہتر نہ ہو تو لائسنس منسوخ کر دیے جائیں۔
نوآئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے جان بوجھ کر بحران پیدا کیا۔ ڈی جی آئل ڈاکٹر شفیع آفریدی اورپٹرولیم ڈویژن افسران اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے۔
وزیراعظم نے پٹرول بحران میں ملوث کمپنیوں اور ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی ہدایت کرتے ہوئے ملوث افراد کوگرفتاراورذخیرہ شدہ پٹرول جبری طور پر مارکیٹ میں سپلائی کرنے کا حکم دے دیا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پٹرول بحران کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔بحران میں ملوث کمپنیوں کے لائسنس معطل اورمنسوخ کیے جائیں، تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو 21 دن کا ذخیرہ یقینی بنانے کا پابند کیا جائے۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔