مردم شماری کامعاملہ ایک بارپھرموٴخر کردیا گیا
اسلام آباد:مردم شماری کا معاملہ ایک بارپھرموٴخرکردیا گیا ، مشترکہ مفادات کونسل نے مرحلہ وار مردم شماری کی تجویز مسترد کردی ، فلڈ پروٹیکشن پالیسی کو حتمی منظوری کیلئے متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔
مردم شماری کا معاملہ پھر لٹک گیا ،وزیر اعظم کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کیاجلاس میں مردم شماری سے متعلق مختلف تحفظات پر غور کیا گیا جس کے بعد مردم شماری کو موٴخر کردیا گیا ۔
مردم شماری کے حوالے سے سیکریٹری شماریات ڈویژن نے بریفنگ دی ، بریفنگ میں بتایا گیا کہ گھرگھرمردم شماری کیلئے 3 لاکھ فوجی جوان درکارہیں ،شفاف اوردرست مردم شماری کیلئے فوجی جوانوں کی موجودگی بہت ضروری ہے۔
وفاق وزیر ریاض پیرزادہ نے بتایا کہ مسلح افواج اپریشن ضرب عضب میں مصروف ہے،آپریشن کے باعث مردم شماری کیلئے جوان دستیاب نہیں۔ کونسل نے مردم شماری کی مرحلہ وارتجویزمسترد کردی اور فیصلہ کیا کہ مردم شماری کے معاملہ پر صوبائی حکومتوں اورپاک فوج کیساتھ مشاورت کی جائے گی ۔
اجلاس میں فلڈ پروٹکشن پالیسی کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا جس کوحتمی شکل دینے کیلئے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا 170 ارب روپے لاگت کے منصوبے میں نئے ڈیم اوربیراجیوں کی تعمیرسمیت دریاوٴں اورنالوں کے بندوں کو مضبوط کیا جائے گا ۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔