نیب کی ایس بی سی اے کے دفتر پر کارروائی

شائع 23 دسمبر 2015 02:40pm

12

کراچی: کراچی میں نیب کی کارروائی میں گزشتہ روز سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر ندیم خان کو گرفتار کیا اور ان سے کی جانے والی تفتیش کے بعد آج پھر ایس بی سی اے کے دفتر پر چھاپہ مارا اور ماسٹر پلان سمیت دیگرریکارڈ تحویل میں لے لیے گئے۔ نیب کو آج کے چھاپے میں رینجرز کی مدد بھی حاصل تھی۔

وفاق نے سندھ حکومت کی سمری مسترد کرتے ہوئے کل رات کو دو ماہ کے لیے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کی اور آج رینجرز نے نیب کے ساتھ مل کر کرپشن کے خلاف کارروائی میں حصہ لیا۔جب کہ سندھ حکومت کی جانب سے رینجرز کو کرپشن کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں رینجرز کو اس بات کا بھی پابند بنایا گیا تھا کہ کسی سیاست دان یا سرکاری ادارے کے خلاف کارروائی سے قبل شواہد کے ساتھ وزیراعلیٰ سندھ کے پاس جانا ہوگا اور ان کی رضامندی کے بعد رینجرز کو کارروائی کا اختیار ہوگا لیکن اگر وزیراعلیٰ کارروائی سے روک دیں تو رینجرز پھر کارروائی نہیں کرسکے گی۔

وفاق کے رویے پر پیپلز پارٹی کے رہنما شدید غصے میں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وفاق نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے اور اب حالات اس نہج پر آچکے ہیں کہ وفاق کا کھل کر مقابلہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاق جو چاہے کر کے دیکھ لے۔ اب ہم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

دوسری طرف مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ آئین وفاق کو سندھ حکومت کے کسی بھی ماورائے آئین اقدام پر اپنا اختیار استعمال کرنے کا حق دیتا ہے۔ وفاق ہر صورت آئین کی پاس داری کرتا رہا ہے اور رینجرز اختیارات پر بھی اس نے آئین کے آرٹیکل ایک سو تینتالیس کو استعمال کیا ہے، اگر کسی کو شک ہے آئین پڑھ لے۔
وفاق کے اقدام پر پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی پھٹ پڑے،ادھر ن لیگ، اے این پی اور ایم کیو ایم کا موقف اس کے بالکل برعکس نظر آیا۔