سامیہ قتل کیس،انویسٹی گیشن ایس پی کے سپرد
فائل فوٹوجہلم :پاکستان نژاد برطانوی خاتون سامیہ ہلاکت کیس میں پیشرفت کا سلسلہ جاری ہے ۔ کیس کی تفتیش کا چارج ایس پی انوسٹی گیشن جہلم کے سپرد کر دیا گیا ہے جبکہ وزیراعلٰی کی ہدایت پر بنائی گئی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی لاہور کل تھانہ منگلا جا کر ملزمان کے بیانات قلمبند کریں گے۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ رنگ بدلتے سامیہ کیس کی تحقیقات جاری ہے۔وزیراعلٰی کی جانب سے بنائی گئی تحقیقاتی ٹیم نے کام شروع کردیا۔کیس کی تفتیش کا چارج ایس پی انوسٹی گیشن جہلم کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی لاہور ابوبکر خدا بخش تھانہ منگلا کا دورہ کریں گےاور سامیہ کے والد، اسکی سہیلی عنبرین اور کزن مبین کے بیانات قلمبند کئے جائیں گے۔دوسری جانب پولیس نے سامیہ کی ماں اور بہن کو شامل تفتیش نہیں کیا ہے، یہ دونوں خواتین ملک سے باہر ہیں۔
سامیہ کے سابق شوہرچوہدری شکیل نے چھ اگست تک ضمانت قبل از گرفتاری کرارکھی ہے۔شکیل کا کہنا ہے کہ اسکی والدہ کا انیس تاریخ کو انتقال ہو گیا تھااور وہ اپنے معاملات میں مشغول تھا۔ سامیہ قتل سے اسکا کوئی تعلق نہیں۔
جہلم پولیس اس کیس میں شروع سے ہی ابہام کا شکار رہی ہے۔پولیس نے پہلے خود کشی ثابت کرنے کی کوشش کی۔پھر والد نے بتایا کہ سامیہ کو ہارٹ اٹیک ہوا۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مقتولہ کی گردن پر نشانات پائے گئے،میڈیا میں خبر آنے کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور ملزمان کی گرفتاریاں شروع ہوئیں۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔