مردم شماری میں تاخیر پر رپورٹ جمع
فائل فوٹواسلام آباد:سپریم کورٹ کے حکم پروفاق نے چھٹی مردم شماری میں تاخیر سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرادی۔ شماریات ڈویژن کا کہنا ہے کہ مردم شماری آئندہ سال مارچ اپریل سے قبل ممکن نہیں۔
ملک میں چھٹی مردم شماری میں تاخیر پر ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ کے حکم پر وفاق نے مفصل رپورٹ جمع کرادی۔رپورٹ شماریات ڈویژن کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق شفاف مردم شماری کیلئے فوج کی تعیناتی ضروری ہے،تاہم پاک فوج نے ملک میں انسداد دہشت گردی آپریشنز کے باعث دستوں کی دستیابی سے معذرت کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ شماریات ڈویژن پاک آرمی ،وزارت دفاع اور نادرا کیساتھ مسلسل رابطے میں ہےاور اس سلسلے میں فوج کیساتھ آئندہ مشاورتی اجلاس دسمبر میں ہو گا جس میں فوجی دستوں کی دستیابی پر غور کیا جائیگا۔
وفاق نے بتایا کہ مردم شماری آئندہ سال 2017 میں مارچ اپریل سے قبل ممکن نہیں ہے،ملک میں چھٹی مردم شماری روائتی نہیں جدید ٹیکنالوجی کے تحت کی جائیگی جبکہ مہاجرین اور غیر ملکیوں کو جاری شناختی کارڈز منسوخ کیے جائیں گے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مردم شماری کیلئے ملکی و غیر ملکی ماہرین کی آرا کی روشنی میں سفارشات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ مردم شماری کے حوالے سے جامع منصوبہ تشکیل دیا جائیگا جسے مشترکہ مفادات کونسل اور سپریم کورٹ کے سپرد کیا جائیگا۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔