وفاقی کابینہ کادہشت گردی سےمتاثرہ خاندانوں کیلئےجامع پالیسی بنانےکا فیصلہ

اپ ڈیٹ 18 اگست 2016 10:50am
  فائل فوٹو فائل فوٹو

اسلام آباد:وفاقی کابینہ نے دہشت گردی کے متاثرہ خاندانوں کی کفالت کیلئے جامع پالیسی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔  وزیراعظم نے سی پیک پراجیکٹس ، بجلی پیداوار اورشاہرات تعمیرکے جاری منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پرمکمل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں ۔

وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سانحہ کوئٹہ کے متاثرین کیلئے دعا کی گئی ۔ کابینہ میں پاک چین اقتصادی راہدری ، توانائی اورسڑکوں، شاہرات کے منصوبوں پرغورکیا گیا ۔

 وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماضی میں تھرکول ذخائر کا استعمال کرتے تو ہم آج بجلی برآمد کررہے ہوتے۔

وزیراعظم نے توانائی اورشاہرات کے جاری منصوبے 2018 سے پہلے مکمل کرنے اور اقتصادی راہدری منصوبوں کی جلد تکمیل کوبھی ترجیح دینے کی ہدایت کی ۔

انہوں نے کہاکہ گوادرپورٹ اوراس کے تمام متعلقہ منصوبوں پربھی کام تیزکیاجائے ۔ کابینہ نے دہشت گردی سےمتاثرہ خاندانوں کی بہبود کیلئےجامع پالیسی تشکیل دینےکافیصلہ کیا تاکہ شہداء کے بچوں کی تعلیم اورروزگارکیلئے جامع پروگرام بنایا جاسکے۔ اس کیلئے قومی انڈوومنٹ فنڈ بھی قائم ہوگا۔

کابینہ نے کینیا سے انسداد منشیات کے مذاکرات کرنے ، ترکمانستان سے دفاعی تعاون کے ایم او یو ،، جاپان سے بجلی شعبہ کیلئے قرض لینے کی منظوری دی۔ا سٹیٹ بینک کو روس سے بینکاری تعاون کے مذاکرات کرنے کی اجازت دی گئی۔

 ترکمانستان سے سفارتی پاسپورٹ والوں کوویزا سے استثنی دینے ، قزاقستان سے مطلوب افراد کے تبادلے کے مجوزہ معاہدے کی منظوری بھی دی گئی ۔

کابینہ نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ کی طرف سے نجی شعبہ کے اشتراک سے اراضی بنکاری کی مجوزہ پالیسی کی اصولی منظوری دی تاہم اس میں مزید بہتری کی ہدایت بھی کی ۔ ضابطہ فوجداری میں اصلاحات کے بل کوموخرکرتے ہوئے اس پرصوبوں سے مزید مشاورت کا فیصلہ کیا گیا ۔