ایران نے آبنائے ہرمز میں چھوٹی آبدوزیں بھیج دیں
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں چھوٹی آبدوزیں بھیج دی ہیں، جنہیں ”چھپی محافظ“ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل برقرار ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں بھیجی گئیں چھوٹی آبدوزوں کا مقصد اس اہم بحری گزرگاہ کی نگرانی اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
امریکی نیوز ایجنسی بلومبرگ کے مطابق ایران کے پاس ”غدیر کلاس“ کی کم از کم 16 منی آبدوزیں موجود ہیں۔ بین الاقوامی ادارے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے مطابق ہر آبدوز میں 10 سے کم اہلکار سوار ہوتے ہیں۔
ان آبدوزوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ دو ٹارپیڈوز یا چین میں تیار کردہ دو سی-704 اینٹی شپ کروز میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مختلف امن تجاویز پر اختلافات برقرار ہیں اور حالیہ دنوں میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی تجاویز مسترد کی ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار کی ترسیل کی جاتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث اس علاقے میں بین الاقوامی توجہ مزید بڑھ گئی ہے۔















