پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس،مشاہد اللہ کی تنقید پر اپوزیشن کا شورشرابہ
فائل فوٹواسلام آباد:پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں گرما گرمی ہوگئی،مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خان کی تنقید پر اپوزیشن نے شور شرابہ کردیا ۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ جب انہیں کچھ نہیں ملتا تو یہ ایل پی جی اور سکھوں کی فہرستوں کے حوالے سے الزامات لگادیتے ہیں،مجھے امکان نظر آرہا تھا کہ جی جی بریگیڈ توپیں چلائے گا، مجھے اندازہ نہیں تھا کہ توپوں کا رخ میری جانب ہوگا، گالی گلوچ بریگیڈ کے پاس صرف دو الزامات ہیں۔
جس پر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ وہ بھاگنے والے نہیں ہیں، پارلیمنٹ میں یہی کچھ ہوتا ہے، میں نے کسی کا نام نہیں لیا اور کسی کو گالی نہیں دی۔
مشاہد اللہ خان نے کہا کہ اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معذرت کرتا ہوں، انہوں نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کو برداشت کریں گے تو پارلیمنٹ مضبوط ہوگی۔
بعد میں خورشید شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس کو برا بھلا کہنا ہے تو کہہ دے ہم پارلیمنٹ سے چلے جاتے ہیں،اگر حکومت چاہتی ہے کہ اپوزیشن منہ پر ٹیپ لگا دے تو ٹھیک ہے یہ بھی کرلیتے ہیں۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔