کوکین کوئین 'پنکی' کے کیس میں نیا موڑ، پولیس نے حکمتِ عملی تبدیل کرلی
کراچی میں منشیات فروشی کے بڑے کیس میں نامزد ملزمہ انمول عرف پنکی کے حوالے سے اہم قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں عدالت نے ملزمہ کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور ہونے کے بعد پولیس نے ملزمہ کو دوبارہ اپنی تحویل میں لے کر تھانے منتقل کردیا ہے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کے سخت نوٹس اور احکامات کے بعد پولیس نے قانونی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے دوبارہ عدالت سے رجوع کیا جس کے نتیجے میں یہ ریمانڈ حاصل کیا گیا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق اب ملزمہ سے منشیات فروشی اور غیر قانونی اسلحے کے ساتھ ساتھ قتل کے مقدمے میں بھی اہم تفتیش کی جائے گی۔
ملزمہ پنکی کے خلاف قتل کا ایک مقدمہ بھی سامنے آیا ہے جو سات مئی کو بغدادی کے علاقے سے ایک نامعلوم شخص کی لاش ملنے پر درج کیا گیا تھا۔ ملزمہ سے اس کیس میں بھی تفتیش کی جائے گی۔
اس کے علاوہ ملزمہ کے ماضی کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ سال 2022 میں لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت میں منشیات فروشی کے ایک چھاپے کے دوران اس کا بھائی ریاض بلوچ گرفتار ہوا تھا، تاہم پنکی اس وقت موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی تھی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ لاہور میں کرائے کے گھر میں خود منشیات تیار کرتی تھی لیکن اس کا اصل سپلائی نیٹ ورک کراچی میں سرگرم تھا۔
کیس کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے انکوائری افسر بھی تبدیل کر دیا گیا ہے اور اب ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ اس معاملے کی انکوائری کریں گے جنہیں تین دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے واضح کیا ہے کہ سندھ حکومت جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی پر یقین رکھتی ہے اور قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملزمہ کے خلاف شواہد کی بنیاد پر کارروائی جاری رہے گی تاکہ کیس کی شفاف تفتیش کو یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب پنکی کا معاملہ اب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ تک پہنچ گیا ہے، جہاں چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے تک کی ہدایت دے دی۔ کمیٹی نے وزارت داخلہ، اے این ایف اور دیگر متعلقہ اداروں سے ملزمہ کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور سپلائرز کی مکمل تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
بلوچ پاڑے کی گلیوں سے منشیات کے ورک تک
انمول عرف پنکی کی زندگی کسی تھرلر فلم سے کم نہیں ہے۔ پنکی 1995 میں کراچی میں پیدا ہوئی اور اس کا بچپن بلوچ پاڑے کی گلیوں میں گزرا جہاں سے اس نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی منشیات فروشوں سے رابطے استوار کرنا شروع کر دیے تھے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نے نہ صرف اس کالے دھندے کے گر سیکھے بلکہ بااثر شخصیات سے ڈانس پارٹیوں میں ہونے والی ملاقاتوں کو ڈھال بنا کر اپنا ایک الگ اور طاقتور منشیات کارٹل قائم کر لیا۔
ملزمہ کی چالاکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے تیزاب کے ذریعے اپنے فنگر پرنٹس تک ختم کر دیے تھے۔
پنکی کو پہلی بار 2018 میں قانون کا سامنا کرنا پڑا لیکن اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے وہ بہت جلد ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
اس نے کوئن میڈم پنکی کے نام سے اپنا ایک باقاعدہ برانڈ لانچ کیا جس کے تحت وہ کوکین کے اثر کو مزید مہلک بنانے کے لیے اس میں کیٹامائن اور ایسیٹون جیسے کیمیکلز کی ملاوٹ کرتی تھی۔
اس کا نیٹ ورک صرف کراچی تک محدود نہیں تھا بلکہ لاہور، اسلام آباد، مری، ملتان اور کشمیر سے لے کر گلگت بلتستان تک پھیلا ہوا تھا جہاں ایک کوچ سروس کے ذریعے مال سپلائی کیا جاتا تھا۔
اس پورے نیٹ ورک کو چلانے میں بیبو اور حرا نامی دو خواتین اس کی دستِ راست کے طور پر اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
گزشتہ منگل کو کراچی پولیس اور وفاقی ادارے نے ایک بڑی مشترکہ کارروائی کے دوران اس بدنام زمانہ ڈرگ لارڈ کو کراچی کے علاقے گارڈن سے گرفتار کر لیا۔
پولیس حکام کے مطابق ملزمہ نہ صرف ایک منظم گروہ کی سربراہی کر رہی تھی بلکہ وہ درجنوں مقدمات میں عرصے سے مفرور اور پولیس کو انتہائی مطلوب بھی تھی۔
گرفتاری کے وقت اس کے قبضے سے ایک پستول، گولیاں اور کروڑوں روپے مالیت کی اعلیٰ معیار کی منشیات برآمد کی گئی ہیں۔
پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ ملزمہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھوکہ دینے کے لیے منشیات کی ترسیل کے لیے خواتین رائڈرز کا استعمال کرتی تھی تاکہ کسی کو شک نہ ہو سکے۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔