سندھ پبلک سروس کمیشن کے نتائج پر امیدواروں کا احتجاج، معاملہ کیا ہے؟

معاملہ اس وقت مزید سنگین صورتحال اختیار کر گیا جب ایس پی ایس سی کی انتظامیہ نے احتجاج کرنے والے امیدواروں، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور یوٹیوبرز کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کروا دیے۔
اپ ڈیٹ 13 مئ 2026 03:16pm
SPSC Recruitment Scandal | Merit System Allegations Sindh | Jobs Transparency Issue - NEWS INSIGHT

سندھ پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی) کی جانب سے مشترکہ مسابقتی امتحان (سی سی ای) 2024 کے تحریری نتائج کے اعلان کے بعد سندھ بھر میں احتجاج کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ہزاروں امیدواروں میں سے صرف 70 افراد کی کامیابی نے میرٹ کی پامالی اور بدعنوانی کے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے، جس کے خلاف امیدوار آج حیدرآباد میں احتجاج کر رہے ہیں۔

احتجاج کرنے والے امیدواروں کا مطالبہ ہے کہ نتائج میں مبینہ اقربا پروری اور کرپشن کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں اور دیہی علاقوں سے ٹاپ کرنے والے امیدواروں کے دوبارہ انٹرویوز لیے جائیں تاکہ حقداروں کو ان کا حق مل سکے۔

ناکام امیدواروں نے کمیشن پر الزام لگایا ہے کہ پرچوں کی جانچ میں جان بوجھ کر ناانصافی کی گئی اور بااثر شخصیات کے قریبی افراد کو نوازنے کے لیے میرٹ کا قتل کیا گیا۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار امداد سومرو نے آج نیوز کے پروگرام ’نیوز انسائٹ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن میں ”صحافیوں کا کوٹہ ہے، سوشل ایکٹیوسٹ کا کوٹہ ہے، جوڈیشری سے تعلق رکھنے والے افسران کا کوٹہ ہے“۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے قریبی تعلقات رکھنے والی سیہون کی راہپوٹو برادری کے 200 سے زائد افراد 17، 18 اور 19 گریڈ پر تعینات ہیں اور ایک بھی سندھ پبلک سروس کمیشن سے پاس نہیں ہوا۔

امداد سومرو نے دعویٰ کیا کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں سندھ میں جتنی بھی کمیشنز ہوئیں وہ سو فیصد میرٹ پر ہوئیں۔

دوسری جانب سندھ پبلک سروس کمیشن نے ان الزامات کا دفاع کرتے ہوئے ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جوابی کاپیوں کی جانچ کا کام مکمل طور پر آزاد ممتحن کرتے ہیں اور اس عمل میں کمیشن کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔

کمیشن کے ترجمان کے مطابق امتحان لینے والے امیدواروں کی کارکردگی کی بنیاد پر آزادانہ فیصلہ کرتے ہیں، اور ایس پی ایس سی نتائج کی تیاری میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرتا۔

کمیشن نے امیدواروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ احتجاج کے بجائے قانونی راستہ اختیار کریں اور ریگولیشن 161 کے تحت اپنی شکایات جمع کرائیں۔

امداد سومرا نے بتایا کہ احتجاج کرنے والے امیدواروں کا کہنا ہے کہ ہماری پٹیشن پرنسپل سیٹ یعینی کراچی میں سنی جائے کیونکہ ”حیدرآباد میں چیزیں ہمارے خلاف مینیج ہوجاتی ہیں“۔

انہوں نے مزید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی باجاری فیملی سے تعلق رکھنے والا عمیر طارق باجاری جو کورنگی میں ڈکیٹی کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا، وہ بحال ہو کر کراچی میں ہی ایس پی ہے اور اس کا دوسرا بھائی اسسٹنٹ کمشنر بن گیا ہے۔

امداد سومرو نے دعویٰ کیا کہ فریال تالپور کا سیکریٹری مجاہد انہڑ جو سی ڈی اے میں ٹیلی فون آپریٹر تھا وہ کراچی میں ڈپٹی ڈائریکٹر بن گیا اور اس کے لیے اینٹی کرپشن میں ایک اسپیشل پوسٹ تخلیق کی گئی۔

معاملہ اس وقت مزید سنگین صورتحال اختیار کر گیا جب ایس پی ایس سی کی انتظامیہ نے احتجاج کرنے والے امیدواروں، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور یوٹیوبرز کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کروا دیے۔

امریکا میں مقیم صحافی امتیاز چانڈیو، فیاض حسین شر اور رفیع اللہ قریشی کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ اور سائبر کرائم قوانین کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

ایس پی ایس سی کے اسسٹنٹ سیکرٹری محمد مصطفیٰ نے الزام لگایا ہے کہ ان افراد نے سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا کر کے امیدواروں کو اشتعال دلایا اور انہیں حیدرآباد-کراچی ہائی وے بلاک کرنے پر اکسایا۔

امیدواروں کا موقف ہے کہ دہشت گردی کے پرچے کاٹنا دراصل حق کی آواز دبانے اور تنقید کو روکنے کی ایک کوشش ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اس ادارے پر انگلیاں اٹھی ہوں، ماضی میں بھی ہائی کورٹ کی جانب سے نتائج میں ردوبدل ثابت ہونے پر امتحانات منسوخ کیے جا چکے ہیں۔

ایس پی ایس سی کا کہنا ہے کہ وہ شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ امیدواروں کا کہنا ہے کہ جب تک شفاف تحقیقات نہیں ہوتیں، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔