اسلام آباد، راولپنڈی: دفعہ ایک سو چوالیس نافذ، جلسے پرپابندی
File Photo
اسلام آباد:حکومت نے دو نومبر کو اسلام آباد اور کل راول پنڈی کی ممکنہ بندش کیخلاف دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر کے جلسے جلوس پر پابندی عائد کردی جبکہ گیسٹ ہاؤسز اور تمبو والوں کو روکنے کے ساتھ فورسز کا فلیگ مارچ بھی کیاگیا۔
اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے شہری حدود میں دو ماہ کیلئے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کردی،فورسز کے علاوہ کسی کو اسلحہ رکھنے یا نمائش کی اجازت نہیں ہوگی، پانچ یا زائد افراد کے اجتماع پر پابندی ہوگی، ممکنہ گرفتاریوں کیلئے خصوصی چھاپہ مارٹیمیں تشکیل بنادیں۔
ممکنہ لاک ڈاون کیخلاف شہر بھر میں فوسرز کا اجتماعی فلیگ مارچ کیا گیا اور پولیس گاڑیاں بنی گالہ بھی گئیں ، سی ڈی اے کو احتجاجی بینرزہٹانے کے احکامات مل گئے ہیں،اسلام آباد کے گیسٹ ہائوسسز اور ٹینٹ سروسز والوں کو بھی وارننگ مل گئی ہے، سیکٹر جی سکس میں رہنماء پی ٹی آئی جہانگیرترین کی رہائش گاہ کے راستے کو محدود کرکے بھی کچھ دیر تلاشی لی گئی۔
راولپنڈی کے ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹر نے بھی ضلعی حدود میں دو روز کیلئے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کرتے ہوئے جلسے جلوسوں ریلیوں اورلاوڈاسپیکر پر پابندی کردی ہے ۔
احکامات کے مطابق سیاسی اور فرقہ ورانہ اشتعال انگیزی تحریر و تقریر پر بھی پابندی عائد ہوگی،تاہم عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے اس اقدام کی سختی سے مخالفت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
لاک ڈاؤن روکنے کیلئے کریک ڈاؤن کی تیاریوں میں چھاپہ مارٹیموں کی قیادت ڈی ایس پی اورایس پی رینک کے افسروں کو دی گئی ہیں۔دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاذ میں لاؤڈ سپیکر اور ساؤنڈ سسٹم ممنوع قرار دیتے ہوئے کہاگیا ہےکہ لاؤڈ سپیکر کا استعمال صرف اذان اور خطبہ کیلئے ہوگا۔












اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔