چار غذائیں جنہیں دوا کے ساتھ کھانا خطرے سے خالی نہیں
یہ بات سب جانتے ہیں کہ دوائیں ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے کھانی چاہیئں کیونکہ وہ بہتر جانتے ہیں کہ کون سی بیماری کیلئے کون سی اور کتنی مقدار میں دوا کھانی چاہئے اس کے علاوہ ڈاکٹرزمیڈیسن کے ساتھ مناسب خوراک بھی تجویز کرتے ہیں تاکہ دوا جسم پر زیادہ اثر کرسکے۔
لیکن کچھ غذا ئیں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں دوا کے ساتھ کھانا خطرے سے خالی نہیں ہوتا،یہاں ایسی ہی خوراک کے بارے میں تفصیل بیان کی جارہی ہے۔
کیلا
کیلا بڑوں کے ساتھ بچوں کی بھی پسندیدہ غذا ہے ،یہ تقریباً سارا سال باآسانی دستیاب ہوتا ،کیلے میں وافر مقدار میں پوٹاشیئم موجود ہوتا ہے ،یہ اچھی بات ہے لیکن بلڈ پریشر کے مریضوں کو دوا کھانے کے ساتھ زیادہ پوٹاشیئم والی خوراک کھانے سے پر ہیز کرنا چاہئے ،لہٰذا کیلے کھائیں لیکن میڈیسن کھانے کے تھوڑی دیر بعد اور کم مقدار میں۔
لیموں
ترش غذائیں جیسے لیموں اور کینو میں بہت زیادہ مقدار میں کھٹاس اور سٹرک ایسڈ موجود ہوتا ہے ،لہٰذا کھانسی کے سیرپ کے ساتھ لیموں اور کینو استعما ل نہ کریں۔
کافی
وہ افراد جو سانس کی تکلیف میں مبتلا ہیں انہیں چاہئے کہ وہ کافی کا استعمال کم سے کم کردیں،جن لوگوں کو استھما(دمہ)ہوتا ہے اگر وہ لوگ کافی استعمال کریں تو گھبراہٹ کا شکار ہوسکتے ہیں۔
چکوترا
چکوترا موسمی پھل ہے اس کا ذائقہ تھوڑا ترش ہوتا ہے اور یہ لیموں اور کینو کی فیملی سے تعلق رکھتا ہے ،وہ افراد جو خون سے کولیسٹرول لیول کم کرنے کی دوائیں استعمال کررہے ہیں دوا کھانے کے فوراً بعد چکوترا کھانے یا اس کا جوس پینے سے پر ہیزکریں،ماہرین کے مطابق کولیسٹرول کے مریض اگر دوا کے ساتھ چکوترا کھائیں گے تو انہیں جسم کے مختلف حصوں میں درد کی شکایت پیدا ہوسکتی ہے۔
نوٹ :یہ تحریر محض عام معلومات عامہ کیلئے ہے اس پر عمل کرنے سے قبل اپنے ڈاکٹرز سے مشورہ کر لیں






















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔