کراچی بدامنی عملدرآمد کیس:پولیس کی رپورٹ غیرتسلی بخش قرار

اپ ڈیٹ 07 مارچ 2016 11:01am

sup-karachi

کراچی:سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی عملدرآمد کیس میں پولیس کی کارکردگی رپورٹ غیرتسلی بخش قراردیدی۔ عدالت کا شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کی وارداتوں سے لاعلمی پرآئی جی سندھ پراظہار برہمی ۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس انورظہیرجمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجربینچ نے کراچی بدامنی عملدآمد کیس کی سماعت کی۔آئی جی سندھ نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے بہت کام کیا ہے،اس موقع پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ جس امن کا دعویٰ کر رہے ہیں وہ رینجرز کی وجہ سے ہوا۔

جس پرآئی جی سندھ نے کہا کہ آپریشن ٹیم ورک ہے،پولیس اور دیگر اداروں نے آپس میں تعاون کیا۔جسٹس امیرہانی کا کہنا تھا کہ شارٹ ٹرم کڈنیپنگ بڑھ گئی ہے،انہوں نے استفسارکیا کہ آپ کو معلوم ہے کہ شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کیا ہے،اگراتنا بھی نہیں معلوم توآپ کو وردی میں رہنے کا بھی حق نہیں۔

جسٹس امیر ہانی نے مزید کہا کہ پولیس کے بھی شارٹ ٹرم کڈنیپنگ میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا۔سیتالیس افراد کی لسٹ ہے۔آپ کہتے ہیں کہ اغوا برائے تاوان کے واقعات ختم ہوگئے،ایسے بھی واقعات ہیں کہ ایڈیشنل آئی جی کے کہنے پرمغوی کو رہا کیا گیا،عدالت نے آئی جی سندھ کی رپورٹ پرعدم اطمینان اظہار کردیا۔ پیرول پررہا ہونے والوں سے متعلق عدالتی استفسارپرپراسیکیوٹرجنرل سندھ کا کہنا تھا کہ 70 میں سے 54 کیسز نمٹا دیے گئے،اکثر کیسز میں ملزمان بری ہوگئے جبکہ18 ملزمان کو گرفتارکرکے جیل بھیج دیا گیا۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ وہ نہیں بتائیں جو ہمیں معلوم ہیں، خود سہی تفتیش کرتے نہیں اور الزام عدالتوں پر ڈا ل دیتے ہیں،اگر گواہ پیش نہیں کریں گے تو کیا ملزم کو پھانسی پر چڑھا دیں۔عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی ۔

[video width="700" height="400" mp4="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2016/03/RB-KARACHI-1428_x264.mp4"][/video]