پاسدارانِ انقلاب نے ایرانی فوج کے زیرِ کنٹرول آبنائے ہرمز کا نیا نقشہ جاری کر دیا
ایران کی پاسداران انقلاب گارڈز کی بحریہ نے ایرانی فوج کے زیر کنٹرول آبنائے ہرمز کا نیا نقشہ جاری کردیا ہے تاہم اس میں تبدیلی کی نوعیت فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے پیر کے روز آبنائے ہرمز کا ایک نیا نقشہ جاری کیا ہے، جس میں ان علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جو ایران اپنے کنٹرول میں ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری نقشے میں ایک لکیر ایران میں کوہ مبارک اور متحدہ عرب امارات میں فجیرہ کے جنوب میں کھینچی گئی ہے جب کہ دوسری لکیر ایران میں قشم جزیرہ اور متحدہ عرب امارات میں ام القوین کے درمیان کھینچی گئی ہے۔ پاسدارنِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ ان لکیروں کے درمیان کے علاقے پر ایرانی افواج کا کنٹرول ہے۔
امریکا کی جانب سے تاحال اس نقشے کے متعلق کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایران کے اس دعوے میں پہلے کے مقابلے میں کس حد تک تبدیلی کی گئی ہے یا آیا اس میں کوئی توسیع شامل ہے یا نہیں۔
علاوہ ازیں ایران نے آبنائے ہرمز میں آج امریکی جہاز پر بھی حملہ کر دیا۔ ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز میں امریکی جہاز کو 2 میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے، آبنائے ہرمز میں ایرانی وارننگ نظر انداز کرنے والے امریکی جہاز پر حملہ کیا ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے کوئی بھی بغیر اجازت نہیں گزر سکتا، ہدایات نظرِ انداز کرنے والے جہاز کو فوج فیصلہ کن جواب دے گی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ترجمان ایرانی افواج کا کہنا تھا کہ تمام تجارتی بحری جہاز اور آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز میں ہم سے رابطے کے بغیر نقل و حرکت نہ کریں، ایران آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور امریکی بحریہ کو اس کے قریب بھی نہیں آنا چاہیے۔
انہوں نے کہا تھا کہ ایران اپنی خود مختاری کے خلاف کسی بھی خطرے کا سخت جواب دے گا جب کہ ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
ایرانی افواج کی جانب سے کہا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو مکمل طور پر سنبھالے ہوئے ہیں، آبنائے ہرمز میں نیوی گیشن ایرانی مسلح افواج سے رابطے میں رہ کر کی جائے۔













