موت کے بعد انسانی جسم کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ سائنس دانوں کے حیران کن انکشافات

مشہور ماہرِ فلکیات نیل ڈی گراس ٹائسن کے مطابق، موت درحقیقت ’غائب‘ ہو جانے کا نام نہیں۔
اپ ڈیٹ 04 مئ 2026 09:59am

انسانی موت کو عموماً ایک اختتام سمجھا جاتا ہے، لیکن سائنس ہمیں ایک بالکل مختلف اور حیرت انگیز زاویہ فراہم کرتی ہے۔ مشہور ماہرِ فلکیات نیل ڈی گراس ٹائسن کے مطابق، موت کے بعد انسانی جسم حقیقت میں ختم نہیں ہوتا، بلکہ یہ اپنی حالت تبدیل کر کے کائنات کے لامتناہی سفر کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ محض ایک حیاتیاتی انجام نہیں، بلکہ توانائی کی منتقلی کا ایک عظیم الشان عمل ہے۔

اسی تناظر میں، مشہور امریکی اخبار ’نیویارک پوسٹ’ کی ایک حالیہ رپورٹ نے موت کے بعد انسانی وجود کے حوالے سے ایک نئی سائنسی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹائسن کا ماننا ہے کہ موت درحقیقت کسی ’غائب‘ ہو جانے کا نام نہیں، بلکہ یہ مادے کی وہ تبدیلی ہے جو کائنات کے مستقل ہونے کی گواہی دیتی ہے۔ ان کے اس نظریے نے لاکھوں قارئین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہمارا وجود اس کائنات میں کتنا گہرا اور غیر فانی ہے، جہاں ہم فنا ہونے کے بجائے صرف اپنی شکل بدل کر کائنات کی وسعتوں میں بکھر جاتے ہیں

انسانی وجود کے اس سفر کو اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے زندگی بھر جس جسم کی آبیاری کی، وہ موت کے بعد بھی بیکار نہیں جاتا۔ نیل ڈی گراس ٹائسن کی وضاحت کے مطابق، جب کسی جسم کو دفن کیا جاتا ہے، تو اس میں موجود توانائی ضائع ہونے کے بجائے ’ری سائیکلنگ‘ کے عمل سے گزرتی ہے۔
جسم کے مالیکیولز مٹی میں موجود خرد بینی اجسام اور پودوں کے لیے خوراک بن جاتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ہماری حیاتیاتی توانائی زمین کی ہریالی اور نئے جانداروں کی صورت میں دوبارہ زندہ ہو اٹھتی ہے۔

دوسری جانب، احتراق یا جسم کو جلانے کا عمل اس توانائی کو ایک کائناتی وسعت عطا کرتا ہے۔ اس عمل کے دوران جسم کی ذخیرہ شدہ توانائی حرارت میں تبدیل ہو کر انفراریڈ لہروں کی صورت میں کائنات کی طرف سفر شروع کر دیتی ہے۔

ٹائسن اس بات کی ایک حیرت انگیز مثال دیتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو محض چار سال قبل جلایا گیا ہو، تو اس کے وجود کی لہریں اب تک زمین کے قریب ترین ستارے ’الفا سنٹوری‘ تک پہنچ چکی ہوں گی۔ یہ تصور ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہم مرنے کے بعد بھی ستاروں کی روشنی اور خلا کی خاموشی کا حصہ بن جاتے ہیں۔

یہ سارا عمل دراصل ”تھرمو ڈائنامکس کے پہلے قانون“ کی عملی تفسیر ہے، جس کی رو سے مادہ یا توانائی کبھی فنا نہیں ہوتی، بلکہ صرف اپنا روپ بدلتی ہے۔

اس تصور میں ایک گہری فکر بھی پوشیدہ ہے۔ ہمارے جسم کے ایٹمز مٹی میں مل کر دوبارہ پودوں کا حصہ بنتے ہیں اور بالآخر خوراک کے ذریعے دوسرے جانداروں کے جسم میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم مر کر بھی کسی نہ کسی صورت میں اس کائنات کا مستقل حصہ رہتے ہیں۔

ہماری ہستی مٹتی نہیں، بلکہ وہ زندگی کے ایک لامتناہی اور خوبصورت چکر میں شامل ہو کر کائنات کی وسعتوں میں بکھر جاتی ہے، یعنی سائنس کے مطابق موت دراصل اختتام نہیں بلکہ ایک تبدیلی ہے، جس میں انسان کسی نہ کسی صورت میں کائنات کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔