پرانی عمارتیں آسیب زدہ کیوں محسوس ہوتی ہیں؟ وجہ سامنے آگئی

سرگوشی نہیں، مگر خوف کیوں؟ نئی تحقیق نے پرانی عمارتوں کی پراسرار فضا کا ممکنہ راز بتا دیا۔
شائع 30 اپريل 2026 12:37pm

کئی دہائیوں سے پرانی اور متروک عمارتوں کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہاں کوئی پراسرار قوت یا آسیب موجود ہیں جو انسانوں کو بے چینی اور خوف میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ لیکن حال ہی میں ہونے والی ایک سائنسی تحقیق نے اس خوفناک احساس کی ایک ٹھوس اور زمینی وجہ تلاش کر لی ہے۔

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پرانی عمارتوں میں لوگوں کو جو بے چینی یا خوف محسوس ہوتا ہے، اس کی وجہ شاید کسی مافوق الفطرت چیز کے بجائے ایک قدرتی مگر ناقابلِ سماعت آواز ہو سکتی ہے جسے انفرا ساؤنڈ کہا جاتا ہے۔

یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے فرنٹیئرز اِن بیہیویئرل نیورو سائنس میں شائع ہوئی ہے۔ اس کے مطابق انتہائی کم فریکوئنسی والی آوازیں، جنہیں انسان سن نہیں سکتا، جسم میں تناؤ بڑھا سکتی ہیں اور موڈ کو خراب کر سکتی ہیں۔

انفرا ساؤنڈ وہ آوازیں ہیں جن کی فریکوئنسی تقریباً 20 ہرٹز سے کم ہوتی ہے، یعنی انسانی کان ان کو محسوس نہیں کر سکتے۔ اس کے باوجود یہ آوازیں دیواروں اور مختلف رکاوٹوں سے آسانی سے گزر سکتی ہیں۔ یہ اکثر پرانی عمارتوں میں خراب پائپوں، وینٹیلیشن سسٹمز اور صنعتی مشینوں سے پیدا ہوتی ہیں، جبکہ قدرت میں یہ طوفانوں، زلزلوں، آتش فشاں اور حتیٰ کہ شمالی روشنیوں کے دوران بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔

کینیڈا کی میک ایون یونیورسٹی کے ماہر نفسیات روڈنی شملٹس، جو اس تحقیق کے سربراہ ہیں، نے کہا کہ یہ نتائج اس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ لوگ پرانی یا مبینہ طور پر ”آسیب ذدہ“ عمارتوں میں اچانک بے چینی کیوں محسوس کرتے ہیں۔

ان کے مطابق، ”خاص طور پر تہہ خانوں اور پرانی عمارتوں میں، خراب پائپ اور پرانے وینٹیلیشن سسٹم انفرا ساؤنڈ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اگر کوئی پہلے سے کسی جگہ کو آسیب ذدہ سمجھ رہا ہو تو وہ اس بے چینی کو کسی مافوق الفطرت وجہ سے جوڑ دیتا ہے، حالانکہ یہ ماحول کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔“

اس اثر کو جانچنے کے لیے محققین نے 36 طلبہ کو ایک تجربے میں شامل کیا۔ انہیں ایک کمرے میں اکیلا بٹھا کر مختلف قسم کی موسیقی سنائی گئی، کچھ کو پرسکون اور کچھ کو غیر آرام دہ۔ ان میں سے آدھے افراد کے لیے خفیہ سب ووفرز کے ذریعے 18 ہرٹز کی انفرا ساؤنڈ بھی چلائی گئی، لیکن شرکاء کو اس کا علم نہیں تھا۔

تجربے کے بعد طلبہ سے سوالنامہ پُر کروایا گیا کہ انہوں نے موسیقی کو کیسا محسوس کیا، اور ان کے لعاب کے نمونے لے کر کورٹیسول کی سطح بھی چیک کی گئی۔ کورٹیسول وہ ہارمون ہے جو جسم میں تناؤ کے وقت بڑھ جاتا ہے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد نے انفرا ساؤنڈ سنی، وہ زیادہ چڑچڑے اور بے چین محسوس ہوئے اور انہوں نے موسیقی کو زیادہ اداس قرار دیا، چاہے وہ پرسکون موسیقی ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے علاوہ ان کے جسم میں کورٹیسول کی سطح بھی واضح طور پر بڑھ گئی، جبکہ وہ یہ بتانے میں ناکام رہے کہ انہیں کسی اضافی آواز کا سامنا ہوا تھا۔

یونیورسٹی آف البرٹا کے نیورو سائنسدان اور اس تحقیق کے مرکزی مصنف کلے اسکیٹری نے کہا، ”چڑچڑاپن اور کورٹیسول میں اضافہ عام طور پر ایک ساتھ ہوتا ہے، لیکن انفرا ساؤنڈ نے ان دونوں پر اس انداز میں اثر ڈالا جو معمول کے تعلق سے بھی آگے تھا۔“

محققین کا خیال ہے کہ انسان شاید فطری طور پر ان کم فریکوئنسی آوازوں پر منفی ردعمل دیتے ہیں، جیسے کچھ جانور زلزلے یا سونامی سے پہلے پیدا ہونے والی آوازوں کو محسوس کر کے بے چینی ظاہر کرتے ہیں۔

اگر ایسا ہے تو وہ احساس جسے لوگ ”پراسرار ماحول“ یا ”آسیب کا احساس“ کہتے ہیں، دراصل جسم کا ایک قدرتی الارم سسٹم ہو سکتا ہے جو غیر محسوس آوازوں پر ردعمل دے رہا ہو۔

تحقیق کے مصنفین نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ یہ ایک ابتدائی مطالعہ ہے، جس میں صرف 36 افراد شامل تھے اور صرف ایک ہی فریکوئنسی کو آزمایا گیا۔ ان کے مطابق مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ مختلف حالات اور فریکوئنسیز کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

اس کے باوجود، یہ نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس تحقیق کے نتائج عمارتوں کے ڈیزائن اور شور سے متعلق ضوابط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔