سندھ ہائیکورٹ: ڈاکٹر عاصم، انیس قائم خانی اور روف صدیقی کی ضمانت منظور
File Photoکراچی :سندھ ہائیکورٹ نےدہشت گردوں کو علاج کی سہولت دینے کے مقدمےمیں ڈاکٹر عاصم ، انیس قائم خانی ، روئف صدیقی اور عثمان معظم کی درخواست ضمانت منظور کرلی ہے۔
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عبدالمالک گدی پر مشتمل دورکنی بینچ نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا۔
دوران سماعت ڈاکٹر عاصم کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل دئیے کہ جے آئی ٹی کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ۔رینجرز نے جو بلز پیش کیے اس کا ریکارڈ اسپتال کے رجسٹر میں موجود نہیں۔
لطیف کھوسہ کا کہناتھا کہ تفتیشی افسر نے رپورٹ میں کہا کہ حقائق کو مسخ کیا گیا اور سابقہ تفتیشی افسر نے صرف ایک رخ پر تفتیش کی۔
لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ تفتیشی افسر نے ڈاکٹر عاصم کو رہا کرنے کی سفارش کی ۔انہوں نے کہا کہ اے ٹی سی منتظم جج کا تفتیشی رپورٹ مسترد کرنے کا حکم غیرقانونی تھا ۔
منتظم عدالت کو ڈاکٹر عاصم کو نیب کے حوالے کرنے کا اختیار نہیں تھا۔منتظم عدالت نے حتمی فیصلہ کرنے کے بجائے بادی النظرکا لفظ استعمال کیا ۔
لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عاصم کی زندگی خطرے میں ہے، وہ شدید بیمار ہیں۔ اس موقعے پر عدالت نے دیگر فریقین کے وکلاء کے دلائل بھی سنے اور بعدازاں ڈاکٹر عاصم،روف صدیقی، انیس قائم خانی اورعثمان معظم کی ضمانت منظور کرلی۔
عدالت نے اپنے احکامات میں ملزمان کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے اور پاسپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا اور ملزمان کو پابند کیا ہے کہ وہ ٹرائل کورٹ کی اجازت کے بغیر بیرون ملک نہیں جاسکتے۔
عدالت نے اپنے حکم میں اے ٹی سی کو دو ماہ مقدمے کاٹرائل مکمل کرنے کا بھی حکم جاری کردیا ہے۔













اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔