کراچی:قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارروائیوں میں تیزی
فائل فوٹوکراچی:کراچی میں فرقہ وارانہ ٹارگیٹ کلنگ کی حالیہ لہر کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی کارروائیاں تیز کردیں۔علامہ مرزا یوسف حسین اور تاج محمد حنفی سمیت چالیس سے زائدافراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
کراچی میں15 روزمیں 13 افرادٹارگٹ کلنگ کی بھینٹ چڑھ گئے۔
کراچی پولیس چیف مشتاق مہر نے اسے فرقہ وارانہ کلنگ قرار دیا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حالیہ کلنگ میں ملوث افراد ٹریس ہوگئے ہیں۔
دہشتگردوں نے سر اٹھایا تو قانون نافذ کرنےوالےادارے بھی حرکت میں آئےاور تابڑ توڑ کارروائیاں شروع کردیں۔
اتوار کو اس میں مزید تیزی آئی اور چالیس سے زائد افراد کو حراست میں لے لیاگیا۔
ذرائع کے مطابق فیصل رضاعابدی سمیت چارافرادکی گرفتاری سےاہم معلومات حاصل کی گئیں۔جن کی بناپرمزید گرفتاریوں کا سلسلہ تیزہوگیا۔
اتوار کو قانون نافذکرنے والےاداروں نےاہلسنت والجماعت کےمولانا تاج محمد حنفی کو لیاری سے حراست میں لے لیا ۔
ناظم آباد سے وحدت المسلمین کے رہنما علامہ مرزا یوسف حسین کو گرفتار کیا گیا۔
علی الصبح رضویہ میں رینجرزنے سرچ آپریشن کےدوران تین افراد کوحراست میں لےکران کے قبضےسے دو ٹی ٹی پسٹل اوررپیٹرگن برآمدکرلیں۔
ادھرناگن چورنگی پرصدیق اکبرمسجد کےاطراف سرچ آپریشن کیاگیا تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہ آئی۔
زمان ٹاؤن،اورنگی ،عباس ٹاون اورگودھرامیں سرچ آپریشن کےدوران بیس سےزائد افراد کوحراست میں لیاگیا
جبکہ بلدیہ ٹاؤن میں کومبنگ آپریشن کے دوران چودہ مشتبہ افراد کوحراست میں لیا گیا۔
دوسری جانب پٹیل پاڑہ میں نامعلوم افرادکی فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا جسےاسپتال منتقل کیا گیا۔تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑگیا۔
واقعے کے بعد پولیس اوررینجرزکی بھاری نفری جائے وقوعہ پرپہنچ گئی۔
پولیس کے مطابق مقتول نوجوان کا نام یونس تھااوراس کی سولجربازارمیں نمکوشاپ تھی۔













اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔