سپریم کورٹ: شریف فیملی کی جائیداد اور آمدن کی دستاویزات طلب
File Photoاسلام آباد: پانامہ پیپرکیس میں سپریم کورٹ نے شریف فیملی سے جائیداد اورآمدنی کی دستاویزی تفصیلات مانگ لیں۔
سپریم کورٹ میں پانامہ پیپرزکیس کی سماعت پانچ رکنی فل بنچ نے کی۔ حسن ،حسین اورمریم نواز کے جوابات وکیل سلمان بٹ نے جمع کرائے۔
جسٹس اعجازالحسن نے مریم نوازکے ٹیکس اورتاریخوں سے متعلق استفسارکیا ، جس پرسلمان بٹ نے کہاکہ مریم نواز نے دوہزار نو میں ٹیکس دینا شروع کیا ، مریم نوازکسی جائیداد کی مالک نہیں تاہم دوکمپنیوں نیلسن اورنیسکول کی ٹرسٹی ہیں اوران کمپنوں سے کوئی مالی فائدہ نہیں لیتیں۔
جسٹس اعجازالحسن نے استفسارکیا کہ کیا کمپنیاں پاکستانی حکام کے سامنے ظاہرکی گئیں؟ سلمان بٹ نےکہا کہ وزیراعظم کے بچے پاکستان میں مقیم نہیں اس لئے مناسب نہیں سمجھا۔
چیف جسٹس نے مزید کہاکہ تمام سرکاری اداروں نے اپنے جوابات میں غفلت کا مظاہرکیا، انہیں برائی نظرہی نہیں آرہی اداروں پربد اعتمادی بڑھ رہی ہے، درخواستوں میں عائد الزمات سے آگے نہیں جائینگے۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ کلین چٹ بھی مل سکتی ہے اورفیصلہ مخالف بھی آسکتا ہے بادی النظرمیں جائیداد اورآمدنی میں تعلق نظرآرہا ہے ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ الزامات کا ملکیت سے متعلق حصہ تسلیم کیا جا چکا ہے ،اب کیس میں کوئی پیچیدگی نہیں رہی ہم کسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگنے والے نہیں۔
چیف جسٹس نے مزید کہاکہ حالات کومدنظررکھتے ہوئے یہ کیس اولین ترجیح پررکھا ہے، کمپنیوں کی ملکیت تسلیم کرنے کے بعدعدالت کومطمئن کرنا مالکان کا کام ہے ۔
جسٹس کھوسہ نے کہاکہ خاندان کے ذرائع آمدن اوررقوم کی بیرون ملک منتقلی کوثابت کرنا ہوگا اگر نہ کرسکے تو مشکلات ہونگی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ دستاویزات جمع نہ کروانے کا مطلب یہی لیا جائے گا کہ کچھ چھپایا جا رہا ہے۔













اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔