عمران فاروق قتل ، الطاف حسین کی سالگرہ کا تحفہ تھا، خالد شمیم
File Photo
اسلام آباد:عمران فاروق قتل کیس کے مبینہ ملزم خالد شمیم نے اسلام آباد کے مجسٹریٹ کے روبرو اعترافی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ الطاف حسین اورمحمد انورنے عمران فاروق کو قتل کا کہا،عمران فارق کو قتل کر کے الطاف حسین کی سالگرہ پر تحفہ دیا گیا۔
اپنے اعترافی بیان میں خالد شمیم نے کہا کہ الطاف حسین اورمحمد انورنے عمران فاروق کو قتل کا کہا جبکہ معظم ، کاشف اور محسن کے ساتھ ملکر نائن زیرو پر منصوبہ بنایا۔ اپنے اعترافی بیان میں ملزم کا کہنا تھا کہ الطاف حسین نے افتخارحسین کے ذریعے پچیس ہزار پاؤنڈ کراچی بھجوائے اور یہ پیسے معظم کو دیے جبکہ قتل کیلئے 16 تاریخ طے ہوئی کیوںکہ سترہ ستمبرالطاف حسین کی سالگرہ پرتحفہ دینے تھا۔
خالد شمیم نے بتایاکہ سولہ ستمبرکو کاشف نے فون کرکے بتایاکہ ماموں کی صبح ہوگئی ہے ، ٹی وی لگا کرتصدیق کرلو۔ محمد انورنے پاکستان پہنچنے سے بھی روکا تاہم ہم وطن پہنچے جس کے کچھ عرصے بعد پھرچمن کے راستے افغانستان چلے گئے۔
اپنے اعترافی بیان میں خالد شمیم کا کہنا تھا کہ افغانسان میں پانچ سال قیام کے بعد انہوں نے محسن کے ہمراہ ملک واپسی کا ارادہ تاہم کاشف نے الطاف حسین کی موت تک واپس آنے کا کہا۔
خالد شمیم نے مرضی سے قلمبند کرایا، اقبالی بیان کے ساتھ مجسٹریٹ کے تصدیقی سرٹیفکیٹ میں بغیرکسی دباؤ کی تصدیق کی گئی۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔