کپل شرما نے اپنے بہترین دوست پر تشدد کیوں کیا وجہ سامنے آگئی
ممبئی:حال ہی میں بھارتی ٹی وی کے مزاحیہ اداکار کپل شرما اور سنیل گروور(گتھی) کے درمیان ایک طیارے میں ہونے والی لڑائی بھارتی میڈیا کی سب سے بڑی خبر بنی۔
لوگوں نے دونوں کے درمیان ہونےوالی اس لڑائی پر کا فی تنقید کی اور کہا کہ کپل کو ایسا نہیں کرنا چا ہئے تھا۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق کپل اس تنقید سے پریشا ن ہوگئے ہیں اور فیس بک پر اپنے اور سنیل کے درمیان ہونے والی لڑائی کی وجہ بیان کرتے ہوئے تنقید کرنے والوں کو جواب دیا ہے۔
کپل نے لکھا ہے"صبح بخیر میرے دوستوں،میں اپنی زندگی کا ایک اچھا دور گزار رہا تھا کہ اچانک میں نے اپنی اور سنیل کے درمیان لڑائی کی خبر سنی،سب سے پہلے میں یہ کہنا چاہوں گاکہ یہ خبر آئی کہاں سے ،اور اس کے پیچھے کیا وجوہات تھیں ،اگر میں نے اپنے دوست سے لڑائی کی تو اسے کس نے دیکھا اور آپ کو اس کے متعلق آگاہ کیا؟
کیا خبر دینے والا شخص قابل بھروسہ تھا؟بہت سے لوگ اس طرح کی خبروں کا مزہ لیتے ہیں،ہم دونوں (کپل شرما اور سنیل)ساتھ کھانا کھاتے ہیں ،ایک ساتھ سفر کرتے ہیں ،میں اپنے بھائی سے سال میں صرف ایک بار ملتا ہوں لیکن اپنی ٹیم کے ساتھ زندگی کا ہر دن گزارتا ہوں ،خاص کر سنیل کے ساتھ،میں اس سے محبت کرتا ہوں ،اس کی عزت کرتا ہوں۔
'ہاں میں مانتا ہوں کہ میں نے اس سے بحث کی ،لیکن ہم لوگ عام انسانوں کی طرح نارمل نہیں ہیں ،میں اس پر 5 سالوں میں پہلی بار چلایا "اتنا تو چلتا ہے بھائی"۔
انہوں نے مزیدکہا کہ وہ میرے بڑےبھائیوں کی طرح ہے،میں اپنے میڈیا کی بھی عزت کرتا ہوں اور انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ یہاں اور بہت سے سنجیدہ مسائل ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ،میری اور سنیل کی لڑائی اتنی اہمیت نہیں رکھتی جتنی کہ دوسرے مسائل جیسے ہمارے ملک کی حفاظت وغیرہ،"زیادہ مزے مت لیا کرو"۔
یہ کہنا تھا کپل شرما کا اپنی اور اپنے بہترین دوست کے درمیان ہونے والی لڑائی کے بارے میں جو آج کل بھارت کا سب سے بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق دی کپل شرما شو کی پوری ٹیم آسٹریلیا سے واپسی پر ممبئی جانے کے لیے طیارے میں سوار ہوئی جہاں یہ دونوں دوست آپس میں لڑ پڑے ،جبکہ کپل نے اپنے دوست پر چلانے کے ساتھ ان پر ہاتھ بھی اٹھایا لیکن اس بارے میں کپل کا کہنا تھا کہ یہ بالکل ویسی لڑائی تھی جو دو دوستوں کے درمیان ہوتی ہے ،ہم ابھی بھی بہت اچھے دوست ہیں۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔