ایون فیلڈ پراپرٹیزضمنی ریفرنس پرنواز شریف کے اعتراضات مسترد

شائع 30 جنوری 2018 10:40am
فائل فوٹو فائل فوٹو

اسلام آباد:احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے دائر کردہ ایون فیلڈ پراپرٹیز ضمنی ریفرنس پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے اعتراضات کو مسترد کردیا۔

منگل کواسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کیخلاف دائر کردہ نیب ریفرنسز کی سماعت کی،نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔

 نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز میں دائر ضمنی ریفرنسز پر اعتراضات اٹھائے جنہیں عدالت نے مسترد کردیا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ ضمنی ریفرنس میں کوئی نئی بات شامل نہیں اور عبوری ریفرنس کے پرانے الزامات دہرائے گئے ہیں، ضمنی ریفرنس نواز شریف کی ذات کو نشانہ بنانے کیلئے داخل کیا گیا ہے اور اس کے پیچھے محرکات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں شامل چیزوں کو ضمنی ریفرنس کا حصہ بنایا گیا،  واجد ضیا ءکے بھتیجے اور فرانزک ایکسپرٹ کے بیانات کی روشنی میں ضمنی ریفرنس دائر کیا گیا، ضمنی ریفرنس باہمی قانونی مشاورت کے جواب کے نتیجے میں دائر ہونا تھا، لیکن ہماری طرف سے باہمی قانونی مشاورت کے تحت لکھے گئے خطوط کے تاحال جوابات موصول نہیں ہوئے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے جواب دیا کہ الزامات نہیں دوہرائے گئے بلکہ نئے شواہد سامنے آئے ہیں،جج محمد بشیر نے ضمنی ریفرنس پر اٹھائے گئے اعتراضات کو مسترد کردیا۔

احتساب عدالت میں نیب مقدمات پر مزید کارروائی ہوئی اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نیب کے گواہ اور دفتر خارجہ کے ڈائریکٹر آفاق احمد کا بیان قلمبند کیا گیا۔

آفاق احمد نے بتایا کہ قطری شہزادہ حمد بن جاسم کی طرف سے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کو خط لکھا گیا جو شہزادے کے سیکرٹری شیخ حامد بن عبدالراشد نے پاکستانی سفارتخانے کو دیا۔