ہمارے سیاسی آمر

اپ ڈیٹ 18 دسمبر 2018 11:13am

الفرابی

افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں  الفارابی کے بعد کوئی اس سطح کاسیاسی مفکر یافلسفی نہیں آیا۔ اس کے مدینہ فاضلہ کا خیال بھی افلاطون کی ریاست سے کسی حد تک ماخذ تھا۔ لیکن ہزار  برسوں میں بھی 'استادِ ثانی' یعنی فارابی کے بعد کوئی ایسا مفکر نہیں آیا جو سیاست کے فلسفے پر متاثرکن بحث کرسکے۔

تفکر کی سطح پر بانجھ ہماری  قوم کارویہ بہت متکبرانہ ہے غالباً یہ اس کو خودداری یا غیرت مندی سمجھ بیٹھے ہیں ۔ آج کی تاریخ میں جو سیاسی بصیرت میں نے دیکھی ہے اس پر ان کا بےباک رویہ واقعی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ معاشرہ کیا ہے ، معاشرے کی کیا اقدار ہیں؟ معاشرہ کیسا ہونا چاہیئے، معاشرے کی اقدار کیسی ہونی چاہیئے؟ ان سوالات میں لوگوں کو معمولی سی دلچسپی تو ہے مگریہ  ان جوابات کے اہل نہیں۔ سننا ان کے بس کی بات نہیں اور جواب دینے کی ان کی استطاعت نہیں۔

گذشتہ چند ماہ میری بحث جمہوریت پر ہوا کرتی تھی اور میرا مؤقف ہواکرتا تھا کہ مجھے فرق نہیں پڑا کسی ریاست میں جمہوریت ہے یا آمریت۔ اگر کسی ریاست میں انصاف کے تقاضے پورےکیے جارہے ہیں تو سب ٹھیک ہے۔ لیکن پاکستان کے ایک مخصوص طبقے نے جمہوریت کو مقدس گائے کا درجہ دےدیا ہے جس کا احتساب نعوذباللہ خدا سے بغاوت کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ بہر کیف! وہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے اور ہم اپنی۔ انتہاء یہاں تک تھی کہ جمہوریت کی پشت پر اسلام کو بھی کھڑا کیا گیا۔ ہمارے احباب مختلف واقعات و روایات سے جمہوریت کا خیال نکال کر ہمارے سامنےپیش کرتے لیکن  ہم نہ مانے۔

یہ بھی پڑھیئے: کیا انشاؔء جی سودائی ہیں؟

کچھ روز قبل میں نے کسی کو ریاست اور فرد کے درمیان طاقتور کون اور ریاست کا کاررواں کس طرح چلتا ہے بتانے کی کوشش شروع کی تھی کہ محسوس کیا خاموشی زیادہ بہترہے۔ریاست کی طاقت کا اندازہ ہمارے لوگو ں کواس لیے بھی نہیں کیوں کہ اِسے چلانے والوں نے آج تک اِسے سنجیدگی سے چلایا نہیں۔ کم از کم ہم نے اپنی زندگی میں یہ مشینری مناسب انداز میں چلتے نہیں دیکھی۔ یہ تو پچھلے ایک ڈیڑھ برس سے چیف جسٹس صاحب تھوڑے سے فعال ہوئے نظر آرہے ہیں اور سوال پوچھ رہے ہیں جس پر جعلی جمہوریت پسند چیخ رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ریاست جو کہتی ہے وہ قانون ہوتا ہے۔ صحیح یا غلط یہ ایک علیحدہ بحث ہے لیکن جوریاست کہتی یا کرتی ہے قانون اس ہی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔کیونکہ شہریوں نے اپنے جان مال حفاظت کی ذمہ داری ریاست کو سونپی ہوتی ہے اس لیے اس ذمہ داری کو ریاست اپنے قانون سے پوراکرتی ہےاور رعایا اس قانون کے آگے سرتسلیم خم کرتی ہے۔

 مثال کے طور پر ذرائع سے زیادہ آمدن پر میاں صاحب کو سزا ہوئی، صحیح ہوئی سزا یا غلط ہوئی یہ ایک علیحدہ بحث ہوسکتی ہے لیکن  انہیں جیل میں پہنچایا گیا۔کیا انہیں جیل بھیجنے کیلئے یہ بات ضروری تھی کہ وہ خود تسلیم کریں کہ انہوں نے مالی بدعنوانی کی؟ کیا ان سے کہا گیا کہ آپ سب کے سامنے تسلیم کریں کہ آپ نے ایسا کیا؟؟ قطعی نہیں کیوں کہ اس بات سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا وہ تسلیم کریں یا نہ کریں۔جس ملک کہ وہ شہری ہیں اس نے ان سے یہ حلف لیا ہے کہ وہ انفرادی طور پر جو کہیں گے اس کی اہمیت نہیں ہوگی لیکن ایک ادارہ کچھ کہتا ہے تو اس کی اپنی وقعت ہوگی چاہے وہ پارلیمنٹ ہو، عدلیہ ہویا فوج ہو ہے۔ فرد ریاست سے ٹکرانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔فرد کو ریاست سے مقابلہ کرنے کیلئے ریاستی ادارے کی ہی مدد درکار ہوتی ہے یعنی ریاست زبردست ہوتی ہے۔

یہ ریاست کی فطرت ہوتی ہے کیوں کہ یہ ایک نظام ہے۔نظام کامقابلہ نظام سے ہی کیا جاتا۔ یعنی سزائیں عدالت سے ہوئیں توان کے خلاف اپیل بھی عدالتوں میں ہی ہوگی۔

بہر حال اس سب میں ان بےچاروں کا کوئی قصور نہیں۔ ہمارے یہاں سیاسی پرورش ٹی وی  یا خاندان کا کوئی بڑا کرتا ہے۔ ان میں عموماً وہ ہیں جوسینہ بہ سینہ ایک ہی جماعت میں چلےآرہے ہیں۔جس جماعت میں باپ، اس ہی میں بیٹا۔ اس لیے نہیں کہ بیٹا ان نظریات سے متفق ہے(بظاہر تووہ یہی بتاتا ہے)،صرف اس لیے کہ اس کے باپ دادا اس جماعت میں تھے۔ ان کی کمٹمنٹ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے اور واقعی محسوس ہوتا ہےکہ یہ لوگ جمہوریت کیلئے کچھ کریں گے۔

.نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں