بجٹ 27-2026: جائیداد، برآمدات اور بیرونِ ملک سرمایہ کاری پر ٹیکسوں میں کمی

وفاقی حکومت نے چھوٹے دکان داروں اور ریٹیلرز کے لیے بھی فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
شائع 12 جون 2026 07:54pm

وفاقی حکومت نے بجٹ 27-2026 میں سرمایہ کاری، برآمدات اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات پر ٹیکس ریلیف کا اعلان کیا ہے جس میں جائیداد کی خرید و فروخت، آئی ٹی برآمدات، بیرونِ ملک لین دین اور غیر ملکی اثاثوں پر ٹیکسوں میں نمایاں کمی یا خاتمہ شامل ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعے کو قومی اسمبلی میں بجٹ 27-2026 پیش کرتے ہوئے رئیل اسٹیٹ، برآمدی صنعت، آئی ٹی سیکٹر اور بیرونِ ملک سرمایہ رکھنے والے پاکستانیوں کے لیے ٹیکس چھوٹ کا اعلان کیا ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق حکومت نے معاشی سرگرمیوں کو تیز، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور برآمدات بڑھانے کے لیے مختلف وِد ہولڈنگ اور ایڈوانس ٹیکسز میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے اہم ریلیف کے تحت ٹیکس فائلرز کی جانب سے جائیداد کی خریداری پر عائد وِد ہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اسی طرح جائیداد فروخت کرنے والے فائلرز کے لیے وِد ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کر دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں آئی ٹی سیکٹر کے لیے بھی ریلیف کا اعلان کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ٹی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی پر 0.25 فیصد کی رعایتی ٹیکس شرح میں 2029 تک توسیع کی جا رہی ہے تاکہ ملک کی تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجی انڈسٹری کو مزید سہارا دیا جا سکے۔

وفاقی حکومت نے برآمدی شعبے کے لیے بھی ایڈوانس انکم ٹیکس میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

نئی تجویز کے مطابق برآمدات پر ایڈوانس انکم ٹیکس کی شرح 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دی جائے گی، جس کا مقصد پاکستانی برآمد کنندگان کی عالمی منڈیوں میں مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔

حکومت نے بیرونِ ملک مالی لین دین کرنے والے افراد کے لیے بھی نمایاں ریلیف کا اعلان کیا ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے بیرونِ ملک اخراجات پر عائد ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے صرف 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ حکومت نے غیر ملکی اثاثوں پر عائد کیپیٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیرِ خزانہ نے اس اقدام کو ٹیکس نظام کو زیادہ مؤثر اور سرمایہ کار دوست بنانے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا۔

بجٹ تقریر کے دوران محمد اورنگزیب نے چھوٹے دکانداروں اور ریٹیلرز کے لیے ایک فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا۔ ان کے مطابق اس اسکیم کا مقصد ٹیکس ادائیگی کے عمل کو آسان بنانا اور معیشت کو مزید دستاویزی شکل دینا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات مجموعی طور پر سرمایہ کاری کے فروغ، برآمدات میں اضافے، کاروباری سرگرمیوں کی بحالی اور معاشی ترقی کے حصول کی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہیں، جبکہ مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔