وفاقی بجٹ 27-2026: دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص، کاروباری طبقے پر سپر ٹیکس ختم

بجٹ اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے ایوان میں شور شرابا کرتے ہوئے نامنظور، نامنظور کے نعرے لگائے۔
اپ ڈیٹ 12 جون 2026 09:55pm

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے لیے 18 کھرب 77 ارب 10 کروڑ روپے کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔ بجٹ میں دفاع کے لیے 3,000 ارب مختص کیے گئے ہیں جب کہ آئندہ مالی سال سے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس شرح میں کمی کر دی گئی ہے۔

جمعے کو اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس ہوا، بجٹ اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے علاوہ دیگر اراکین بھی شریک ہوئے۔

قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہی اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور حکومت کے خلاف بھرپور نعرے بازی شروع کردی۔

اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے ایوان میں شور شرابا کرتے ہوئے حکومت مخالف نعرے لگائے، جس کے باعث ایوان کا ماحول کشیدہ ہو گیا جب کہ پی ٹی آئی اراکین ہاتھوں میں پلے کارڈز آٹھائے ایوان میں آئے جب کہ اپوزیشن ارکان نے بجٹ کی کاپیاں پھاڑ کر وزیرخزانہ محمد اورنگزیب پر پھینک دیں۔

اپوزیشن رہنماؤں کا ماننا ہے کہ حکومت مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر معاشی مسائل پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے، اس لیے اس بجٹ کو عوام دوست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

وفاقی بجٹ پیش کیے جانے سے قبل مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین نے بھی اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب مارچ کیا۔ اس دوران مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی اور دھکم پیل کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے۔ مظاہرین تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے، پنشن سے متعلق تحفظات کے خاتمے اور مہنگائی کے تناسب سے مراعات بڑھانے کے مطالبات کر رہے تھے۔

وزیرخزانہ کی بجٹ تقریر

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے جب کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8 ہزار 54 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جب کہ پنشن کی مد میں 1169 ارب روپے رکھے گئے ہیں، وفاقی حکومت کے سول اخراجات کے لیے 1071 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ہنگامی اور غیر متوقع صورت حال سے نمٹنے کے لیے 430 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ مجموعی جاری اخراجات کا حجم 17 ہزار 495 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے 1050 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ایف بی آر کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جب کہ وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5 ہزار 336 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

وفاقی حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج ختم اور ٹیکس میں ریلیف دینے کے لیے 4 سلیبز کی تجویز پیش کی ہے جب کہ حکومت نے آئندہ مالی سال سے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس شرح میں کمی کر دی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق 6 لاکھ سالانہ آمدن پر زیرو ٹیکس اور 12 لاکھ روپے آمدن پر ایک فیصد ٹیکس ہوگا، 12 لاکھ سے زائد اور 22 لاکھ روپے آمدن تک 11 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا، 22 لاکھ سے زائد اور 32 لاکھ روپے آمدن تک 20 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا، 32 لاکھ سے زائد اور 41 لاکھ روپے آمدن تک 25 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا، 41 لاکھ روپے سے زائد اور 56 لاکھ سالانہ آمدن پر 29 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا۔

دستاویزات کے مطابق 56 لاکھ روپے سے زائد اور 70 لاکھ سالانہ آمدن پر 32 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا جب کہ سالانہ 70 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر 35 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا۔

بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے، ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ تنخواہ دار طبقے کو ٹیکسوں میں ریلیف دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت نے نجکاری پروگرام کو وسعت دیتے ہوئے جینکوز، ڈسکوز، بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور ہوائی اڈوں کی نجکاری کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ تین ڈسکوز کی نجکاری کے لیے اظہارِ دلچسپی کے نوٹسز بھی جاری کر دیے گئے ہیں جب کہ نجکاری کے عمل کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔

وزیر خزانہ کے مطابق وفاقی حکومت کی خالص آمدن 11 ہزار 751 ارب روپے ہوگی جب کہ وفاقی محصولات میں صوبوں کا حصہ 8 ہزار 848 ارب روپے ہوگا، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے، بی آئی ایس پی کے لیے یہ رقم پچھلے سال کےمقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر کے لیے 146 ارب روپے، گلگت بلتستان کے لیے 88 ارب روپے اور خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے 95 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ ”اپنا گھر اسکیم“ کے لیے 71 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت مارک اپ کی شرح 19 فیصد سے کم کرکے 4.5 فیصد کردی گئی ہے تاکہ برآمد کنندگان کی لاگت میں کمی لائی جا سکے۔

وزیر خزانہ نے پراپرٹی سیکٹر کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے فائلرز کے لیے جائیداد کی خریداری اور فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کر دی ہے۔ بجٹ تجاویز کے مطابق فائلرز کے لیے جائیداد خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد جب کہ نان فائلرز کے لیے جائیداد کی فروخت پر ود ہولڈنگ ٹیکس 5.5 سے کم کرکے 2.75 فیصد کردیا گیا ہے۔

محمد اورنگزیب نے بتایا کہ 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے منافع کمانے والی کمپنیوں پر عائد سپر ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے، 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن والی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ دفاعی اخراجات کے لیے 3 ہزار ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

انہوں نے اپنی تقریر میں مزید بتایا کہ ریاستی ملکیتی اداروں کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے 451 ارب روپے شامل ہیں، وفاقی ترقیاتی پروگرام میں نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کے لیے 365 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، بجلی اور دیگر شعبوں کی سبسڈی کے لیے 10 کھرب 91 ارب روپے رکھے ہیں۔

محمد اورنگزیب کے مطابق کراچی کو چمن سے جوڑنے والی این 25 شاہراہ پاکستان ایکسپریس وے کو جوڑنے کے لیے 100 ارب روپے، ایم ایل ون کے کراچی تا روہڑی سیکشن کے لیے 25 ارب روپے جب کہ گوادر بندرگاہ اور چاروں صوبوں میں ٹرانسپورٹ کے لیے 93 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بجلی اور دیگر شعبوں کی سبسڈی کے لیے 10 کھرب 91 ارب روپے رکھے ہیں، بجلی کے شعبے کے لیے 116.2 ارب روپے، کراچی میں کے فور منصوبے کے لیے 10 ارب روپے جب کہ آبی منصوبوں کے لیے 103.1 ارب روپے مختص کیے ہیں، ہاؤسنگ کے لیے 54.6 ارب روپے مختص کیے ہیں، وفاقی اور صوبائی سطح پر 1 لاکھ 50 ہزار سستے رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ بجٹ میں کسانوں کے لیے 300 ارب کے قرضے، صنعت اور تجارت کے لیے 6.6 ارب روپے، صحت کے لیے 25.1 ارب روپے، اعلیٰ تعلیم کے لیے 46 ارب روپے اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے الگ سے 3.6 ارب روپے رکھے ہیں جب کہ دانش اسکولوں کے لیے 26.3 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

محمد اورنگزیب کے مطابق آئی ٹی شعبے کو ریلیف دیتے ہوئے آئندہ مالی سال کے لیے آئی ٹی برآمدات پر 0.25 فیصد رعایتی ٹیکس 2029 تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، برآمدات پر ایڈوانس انکم ٹیکس 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کردیا ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت ’نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025 کے تحت کینسر اور دیگر بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کی مقامی تیاری کے لیے ایک اہم سہولت متعارف جب کہ ککینسر اور دیگر امراض کی ادویات کی مقامی پیداوار میں استعمال ہونے والی 100 سے زیادہ اقسام کے خام مال پر عائد کسٹمز ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کی جا رہی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے بیرون ملک ادائیگیوں پر عائد ٹرانزیکشن ٹیکس 5 فیصد سے کم کرکے 0.5 فیصد کیا جا رہا ہے۔ غیر ملکی اثاثے رکھنے والے پاکستانیوں پر عائد کیپٹل ویلیو ٹیکس بھی ختم کرنے کی تجویز ہے جب کہ چھوٹے دکانداروں اور کاروباری افراد پر 20 کروڑ یا اس سے کم فروخت پر سالانہ فروخت کا ایک فیصد فکسڈ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے کاروباری لاگت میں اضافہ متوقع ہے، 1ٹیکس گوشوارے جمع کرتے وقت انہیں 25 ہزار روپے جمع کروانا ہوں گے، روٹین میں کوئی آڈٹ نہیں ہوگا، ٹیکس دینے والے دکاندار کو سبز تختی دی جائے گی۔

بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے بجٹ 27-2026 میں لگژری اور درآمدی گاڑیوں پر ٹیکسوں پر نئے اور اضافی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان بھی کیا۔ محمد اورنگزیب کے مطابق 2000 سی سی سے 3000 سی سی تک کی تمام پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں بالخصوص ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جا رہی ہے جب کہ 3000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر پہلے سے موجود ڈیوٹی میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق بجٹ میں ایک طرف ریلیف اقدامات شامل ہیں تاہم ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور ریونیو میں اضافے کے لیے سخت فیصلے بھی کیے گئے ہیں، جن کے اثرات آنے والے مہینوں میں واضح ہوں گے۔

فنانس بل 2026 کی کاپی سینیٹ میں پیش

قومی اسمبلی میں بجٹ 27-2026 پیش کرنے کے بعد وفاقی وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے فنانس بل 2026 کی کاپی سینیٹ میں پیش کردی جب کہ فنانس بل 2026 کے ساتھ سالانہ بجٹ اسٹیٹمنٹ بھی سینیٹ میں رکھی گئی ہے۔

وفاقی وزیرخزانہ نے سینیٹ کی سفارشات قومی اسمبلی کو بھجوانے کی تحریک بھی پیش کی۔ سینیٹ اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت شروع ہوا۔

چیئرمین سینیٹ نے ارکان سینیٹ کو ہدایت دی کہ 15 جون تک اپنی بجٹ سفارشات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بھیج سکتے ہیں۔

سینیٹ اجلاس 2 گھنٹے سے زائد تاخیر کے بعد شروع ہوا، اجلاس شروع ہوتے ہی پی ٹی آئی ارکان نے احتجاج شروع کردیا اور نعرے بازی کی جب کہ پی ٹی ارکان نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے۔

سینیٹ اجلاس میں میں تاج محمد آفریدی کے لیے دعائے مغفرت بھی کی گئی جب کہ سینیٹ اجلاس پیر کی دوپہر 12:30 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔