Aaj Logo

شائع 20 ستمبر 2019 02:12pm

مہنگائی کی لہر مزید 2 سال تک جاری رہے گی، اسٹیٹ بینک

ملک میں جاری مہنگائی کی لہر دو سال تک جاری رہے گی ۔ ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ شرح سود 7.50 فیصد سے بڑھ کر 13.25 تک پہنچی۔ شرح سود میں اضافہ کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ دو سال مزید مہنگائی رہ سکتی ہے۔

قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ کی چیئرپرسن نے مہنگائی بڑھنے کی شرح کو تشویش ناک قرار دیا ہے۔

 چیئرپرسن عائشہ غوث پاشا کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی زیلی کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔

اجلاس میں کاروباری برادری کے نمائندوں کی بھی شرکت  کی۔ جس میں مہنگائی میں کمی کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔

ڈپٹی گورنر سٹیٹ بنک، جمیل احمد نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شرح سود 7.50 فیصد سے بڑھ کر 13.25 تک پہنچی، شرح سود میں اضافہ کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوا۔  انھوں نے مہنگائی کی موجودہ لہر جاری رہنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ دو سال مزید مہنگائی رہ سکتی ہے۔

ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ موجودہ شرح سود سے بیرونی شعبے میں استحکام آیا،آئندہ دو سالوں میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 5.7 فیصد تک آ جائے گی، ترجیحی سیکٹر میں ایس ایم ای شامل ہے جہاں سہولیات بھی دیں گئیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کا موازنہ بھارت اور بنگلہ دیش کی پالیسی ریٹ کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔

اس موقع پر عائشہ غوث پاشا نے مہنگائی بڑھنے کی شرح کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مہنگائی کے ناپنے کا سال تبدیل کیا، بنیادی سال تبدیل کرنے کے باوجود بھی مہنگائی 10 فی صد سے زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ ملک کو بڑھتی مہنگائی کے چیلنج کا سامنا ہے، مہنگائی کو کنٹرول کرنیکی کی ضرورت ہے اسی لیے یہ کمیٹی بھی بنائی گئی۔

Read Comments