Aaj Logo

شائع 23 نومبر 2019 02:50pm

قانون کے محافظ۔۔۔ عوام کے قاتل؟

کراچی: گزشتہ روز کار سوار نوجوان نبیل کی پولیس فائرنگ سے ہلاکت پر ایس ایس پی ساؤتھ شیراز نذیر کہتے ہیں واقعےکی مکمل تحقیقات کی جارہی ہے۔ واقعہ میں پولیس کی غلطی واضح ہے۔

آج نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گاڑی رک گئی تھی،فائرنگ نہیں کرنی چاہئے تھے۔ واقعہ میں پولیس کی غلطی واضح ہے۔

ایس ایس پی ساؤتھ نے مزید کہانیبل اور رضا سے اسلحہ بھی برآمد نہیں ہوا۔

اس کے علاوہ ڈی آئی جی ساؤتھ شرجیل کھرل نے بھی کینٹ اسٹیشن فائرنگ واقعے پر پولیس اہلکاروں کی غلطی کا اعتراف کرلیا۔

میڈیا سے گفتگو میں ڈی جی ساؤتھ کا کہنا تھاکہ واقعہ افسوس ناک ہے،پولیس اہلکاروں کو فائرنگ نہیں کرنی چاہیئے تھی۔ جن اہلکاروں نے غلطی کی انھیں سزا بھگتنا پڑے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اہلکارکھڈامارکیٹ سےگاڑی کا تعاقب کررہے تھے۔اہلکاروں نےگاڑی کوروکنےکےلئے پہلے ہوائی فائرنگ کی۔فائرنگ سےایک شخص جاں بحق،ایک زخمی ہوا۔

انہوں نے مزید کہاجائےوقوع سےشواہد اکٹھا کرکےتفتیش شروع کردی گئی۔

دوسری جانب کراچی میں کینیٹ اسٹیشن واقعے میں جاں بحق نبیل اورزخمی رضا کے وکیل جاوید میر کا کہنا ہے کہ پولیس اپنےپیٹی بھائیوں کوبچانےکی کوشش کررہی ہے۔ مقدمہ درج کرنےمیں جلد بازی کا مظاہرہ  کیا گیا۔مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کی جائیں۔

میڈیا سے گفتگو میں وکیل کا کہنا تھا کہ مقتول نبیل کی فیملی ملک سےباہر ہے۔ جبکہ زخمی رضا نجی اسپتال میں زیرعلاج ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی میں کينٹ اسٹيشن کے قريب پوليس اہلکاروں کی گاڑی پر فائرنگ  کے نتیجے میں کار میں سوار ایک شخص ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا تھا۔

واقعے کے بعد موبائل ميں سوار 3 اہلکاروں سَب انسپیکٹر عبدالغفار، ہیڈ کانسٹیبل آفتاب اور کانسٹیبل محمد علی شاہ کو حراست ميں لے کر اسلحہ تحويل ميں لے ليا گیا تھا۔

 پوليس کو دیے گئے ابتدائی بیان میں زخمی رضا امام نے بتایا تھا کہ کھڈا مارکیٹ سے کھانا کھا کر روانہ ہوئے تو پولیس نے پیچھا کیا لیکن ہمیں معلوم نہیں تھا کہ پولیس پیچھے ہے۔ ہم نے کینٹ اسٹیشن کے قریب گاڑی روکی تو پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کر دی۔

 زخمی رضا کی مدعیت میں واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمے میں قتل کی دفعات لگائی گئی ہیں۔

Read Comments