وفاقی کابینہ کا اجلاس: لاک ڈاؤن نرم کرنے کا مشورہ
فائل فوٹووفاقی کا بینہ کے اجلاس میں نو مئی کے بعد اسمارٹ لاک ڈاؤن کی صورتحال پرمشاورت کی گئی۔کابینہ نے بتدریج لاک ڈاؤن میں نرمی کے پالیسی اپنا نے کی تائید کردی۔لاک ڈاؤن میں نرمی کا حتمی فیصلہ قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ہوگا ۔ نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس کل بلائے جانے کا امکان ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی معاشی وسیاسی اورکورونا صورتحال پرغورکیا گیا اورکئی اہم فیصلے کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں لاک ڈاؤن میں نرمی پرمشاورت کی گئی ہے۔ارکان نے لاک ڈاؤن نرم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔وفاقی کا بینہ کے اجلاس میں نو مئی کے بعد اسمارٹ لاک ڈاؤن کی صورتحال پرمشاورت، کابینہ نے بتدریج لاک ڈاؤن میں نرمی کے پالیسی اپنا نے کی تائید کردی۔
وزیراعظم کی زیرصدارت نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس کل بلائے جانے کا امکان ہے۔اجلاس میں لاک ڈاون میں نرمی سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ کابینہ کے ارکان کی اکثریت نے لاک ڈاؤن کے حوالے سے وزیراعظم کے مؤقف سے اتفاق کیا جبکہ وزیراعظم کا کہنا تھاکہ چاہتا ہوں لاک ڈاؤن جلد ختم ہو تاہم احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔کاروبارتو کھل جائیں گے لیکن طے کردہ ضابطہ کار پر عملدرآمد بھی کرانا ہوگا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملک بھر میں ٹرین سروس شروع کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ کابینہ نے بھارت سے 429 ضروری ادویات درآمد کرنے کی تجویز مسترد کردی۔
ذرائع کے کا کہنا ہے کہ کابینہ نے اپنے گزشتہ اجلاسوں کے فیصلوں پرعملدرآمد کا بھی جائزہ لیا۔
وفاقی کابینہ نے دو ماہ تک بغیروارنشنگ کے نوٹ چھاپنے کےلئے سمری مؤخر کردی اور ارکان نے رائے دی کہ بغیروارنشنگ کے لگے گا کہ جعلی نوٹ چھاپے گئے ہیں۔جبکہ کابینہ اراکین کا ایک ماہ کی تنخواہیں کورونا ریلیف فنڈ میں دینے کا اعلان کیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے قومی اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کو شامل نہ کرنے کی سمری منظورکرلی۔وزارت مذہبی امور نے نئی سمری کابینہ کو پیش کی تھی۔
تاہم اسد عمر کی زیرصدارت نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول کا اجلاس کل ہوگا،اس میں صوبوں سے تجاویزلی جائیں گی ۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔