پاناما کیس:وزیراعظم کے وکلاء نے عدالتی سوالوں کے جوابات جمع کرادیئے
فائل فوٹواسلام آباد:سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے دوران وزیراعظم نواز شریف کے وکلاء نے عدالتی سوالوں کے جوابات جمع کرادیئے۔
جمعرات کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ نے پاناما کیس کی سماعت کی۔
وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جوابات میں نواز شریف کے عوامی عہدوں کی تفصیلات فراہم کی گئیں۔
جسٹس اعجازنے مخدوم علی خان سے کہاکہ انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ گلف اسٹیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم وزیراعظم کے بینک اکاؤنٹ میں رہی، اگرنہ کرسکے توبینچ کومشکل ہوجائے گی۔
نعیم بخاری نے دلائل کا آغازقطری شہزادے کےخط سے کیا۔
جسٹس عظمت سعید نے استفسارکیا کہ سرمایہ کاری قطراورجائیداد لندن میں کیسے بنیں؟نعیم بخاری نے قطری خط کو فراڈ قراردیا جس پرجسٹس گلزاربولے کہ بظاہرخط ایک شخص کی یاداشت لگتا ہے۔
نعیم بخاری نےقطری خط کارروائی سے نکالنے کی استدعا کی،جس پرجسٹس کھوسہ نے کہاکہ خط کوکیسے نکال پھینکیں؟ وزیراعظم کے بچوں کا انحصاراس خط پرہے۔
جسٹس عظمت نے نعیم بخاری سے کہا کہ باتوں سے کام نہیں چلے گا، آپ کو شواہد بھی دینا ہوں گے،حقیقت جاننے کیلئے دوسرے فریق سے بھی سوال کریں گے۔
نعیم بخاری نےدلائل میں اخباری رپورٹس کا ذکرکیا توعدالت نے کہاکہ جن کی خبریں اورکتابیں پیش کرنا چاہتے ہیں وہ عدالت میں آئیں گے اورمخالف وکیل کے سوالات کا جواب دیں گے۔
نعیم بخاری اخباری رپورٹس پردلائل دینے سے رک گئے اورکلثوم نواز،حسن اورحسین نوازکے انٹرویوزعدالت میں پیش کئے توجسٹس کھوسہ نےکہاکہ انٹرویوسے لگتا ہے حسن نواز1999تک برسرروزگارنہیں تھے۔












اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔