بے رحم بیماری کے سبب مرنے والے بچے کو سائنسدانوں کا خراج
Daily mail بشکریہمیشی گن سے تعلق رکھنے والا بچہ پانچ سال کا تھا جب بے رحم بیماری نے اس کی جان لی۔
پانچ سالہ چاڈ کار ڈِفیوز اِنٹرنزک پونٹین گلیوما، ایک مہلک اور لاعلاج برین ٹیومر جو نو سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتا ہے، میں مبتلا تھا۔
اس ظالم بیماری کی تشخیص انتہائی مشکل سے ہوتی ہے۔ زیادہ تر مریضوں میں اس بیماری کی تشخیص ان کی موت سے چند ماہ قبل ہی ہوتی ہے۔
بیماری کی تشخیص کے بعد چاڈ کے خاندان کے پاس اُس کے ساتھ گزارنے کیلئے فقط 14ماہ تھے۔
لیکن اب اس کی موت کے ڈیڑھ برس کے بعد سائنس دان ایک مقالے میں اُسے خراج پیش کر رہے ہیں۔
مقالے میں ان کا کہنا ہے کہ اس کے دماغ پر کیے گئے ایک تجزیے نے جینیاتی تغیرات جو اس بیماری کا سبب بنتی ہے کے فہم میں زبردست کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ ملنے والے نتائج اس کم فہم بیماری کے متعلق پہلے ٹھوس نتائج ہیں ۔
چاڈ کی والدہ کا کہناتھا کہ یہ چاڈ کاآخری جسمانی تحفہ تھا اوراس تحفے کے نتیجے میں اس بیماری سے متعلق تحقیق میں فرق دِکھنا،جو کبھی دیگر بچوں کے مستقبل کو بدلے گا، ہمارے لیے معنی خیز ہے۔
Daily mail بشکریہ
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔