پاکستان خطے میں کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی

اپ ڈیٹ 17 جنوری 2020 10:37am
فائل فوٹو

واشنگٹن:وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا،پاکستان صرف امن کے لیے شراکت دار ہے، بھارتی حکومت ہندو نظریے کو فروغ دے رہی ہے،بھارت میں مسلمانوں کو دیوار سے لگادیا گیا۔

واشنگٹن میں سینٹرفاراسٹریٹیجک اینڈانٹرنیشنل اسٹڈیزمیں گفتگو کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا تشخص بہتر ہوا ہے، پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرانا چاہتا ہے،فریقین ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان اور امریکا  کے تعلقات کو صرف  افغانستان کے تناظر میں دیکھنادرست نہیں ،افغانستان میں امن  خطے کے امن کے لیے ضروری ہے،افغانستان میں امن کے بغیر خطے میں امن نہیں ہوسکتا۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان معاشی بہتری کے لیے کوشاں ہیں،امریکا کےساتھ مضبوط تعلقات کے خواہاں ہیں،سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے بہترین تعلقات ہیں،ایران پاکستان کا دوست اور ہمسایہ ملک ہے،ترقی کے حصول کے لیے امن کے خواہاں ہیں،امریکاکےدورےسے قبل ایران اورسعودی عرب کے دورے کیے،پاکستان صرف امن کے لیے شراکت دار ہے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ یواین کی قراردادوں کےمطابق مسئلہ کشمیرکاحل چاہتےہیں،افغانستان کے مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے،وزیراعظم نےبی جےپی آرایس ایس گٹھ جوڑسےدنیاکوآگاہ کیا،بھارت نےپاکستان کےخیرسگالی کےجذبات کامثبت جواب نہیں دیا،پلواماواقعےمیں بھارت نے دنیا کو گمراہ کیا۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح کیا کہ پاکستان خطےمیں کسی جنگ کاحصہ نہیں بنےگا،پاکستان امریکا تعلقات باہمی مفادپرمبنی ہیں،پاکستان نے سکھ برادری کےلیےکرتارپورراہداری کھولی،پاکستان نے کرتارپور راہداری کھول کے مذہبی ہم آہنگی کا ثبوت دیا۔

شاہ محمود قریشی نے دنیا کو بھارت کے جارحانہ عزائم سے بھی آگاہ کیا، بتایا کہ بھارت میں مسلمانوں کو دیوار سے لگادیا گیا ہے،بھارتی فوج پاکستان کےخلاف جارحانہ رویہ رکھتی ہے،بھارت کا یہ رویہ خطے میں بدامنی کا باعث بن رہاہے۔

وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ بھارتی حکومت انتہاپسندانہ سوچ کی حامل ہے،بھارتی حکومت ہندونظریے کوفروغ دے رہی ہے،بی جےپی حکومت نے ہماری امن کی خواہش کو کمزوری سمجھا،کشمیرمیں لاکھوں افرادانسانی حقوق کی پامالیوں کاشکارہیں۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاک امریکاتعلقات صرف افغانستان کے تناظرمیں دیکھنادرست نہیں،پاکستان ایران،امریکا کشیدگی کم کراناچاہتاہے،فریقین ایساقدم نہ اٹھائیں جس سےکشیدگی میں اضافہ ہو،وزیراعظم افغانستان میں امن کے لیے پر عزم ہیں،امریکاپاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے،پاکستان ہائیڈروپاورکےوسیع ذرائع اورصلاحیت رکھتاہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سے مسائل کا حل نکالا جائے،کہ مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں،ایران پر پابندیوں سے عام شہری متاثر ہورہے ہیں ،ایران خطےکےتمام ممالک سےبات چیت کاخواہاں ہے،ایران چاہتا ہے بات چیت سے مسائل کا حل نکالا جائے۔

وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ ہم چاہتےہیں پڑوس میں امن ہوتاکہ انسانی تقری پرتوجہ دی جاسکے ،انسانی وسائل پرتوجہ دےکرترقی،خوشحالی اوراستحکام حاصل کیاجاسکتاہے۔