سورج سے نکلنے والا خوفناک طوفان آج زمین سے ٹکرانے کا امکان، ناسا میں ہائی الرٹ
سورج کی سطح پر ہونے والے ایک بہت بڑے دھماکے کے بعد مقناطیسی گیسوں کا ایک تیز رفتار طوفان کورونل ماس ایجیکشن (سی ایم ای) زمین کی طرف بڑھ رہا ہے جو کسی بھی وقت ہماری زمین سے ٹکرا سکتا ہے۔ امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا اور اسپیس ویدر پریڈکشن سینٹر نے اس صورتحال کے پیش نظر شدید نوعیت کے مقناطیسی طوفان ’جی 3‘ کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔
اس طوفان کے نتیجے میں رات کے وقت آسمان پر خوبصورت اور رنگ برنگی روشنیاں، جنہیں قطبی روشنیاں یا ارورا کہا جاتا ہے، نمودار ہونے کی قوی امید ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق سورج گزشتہ کئی روز سے شدید تبدیلیوں کا شکار ہے اور اس کی سطح سے مسلسل توانائی اور گیسوں کے اخراج کا سلسلہ جاری ہے، بالکل ایسے جیسے کوئی شہر مسلسل آتش بازی کر رہا ہو۔
اس سے پہلے ہونے والے زیادہ تر دھماکوں کا رخ زمین کی طرف نہیں تھا لیکن 6 جون 2026 کی صبح سورج کے ایک مخصوص حصے ایکٹو ریجن 4461 سے ایک درمیانے درجے کا زوردار دھماکہ ہوا جسے ’سولر فلیر‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دھماکہ اصل میں سورج کی مقناطیسی توانائی کے اچانک اخراج کا نتیجہ تھا۔
اس دھماکے کی سب سے خاص بات اس کے اندر موجود ایک گھنا اور انتہائی تیز رفتار مادہ ہے جسے سائنسی زبان میں فلامنٹ کہتے ہیں۔ عام فہم زبان میں آپ اسے بجلی سے بنا ہوا ایک ایسا پل سمجھ سکتے ہیں جو سورج کے انتہائی گرم ماحول میں مقناطیسی قوتوں کی وجہ سے ہوا میں معلق رہتا ہے۔
اس کے اندر موجود گیسیں اگرچہ ہزاروں ڈگری سینٹی گریڈ گرم ہوتی ہیں، لیکن سورج کے بیرونی ماحول کے لاکھوں ڈگری درجہ حرارت کے مقابلے میں یہ بہت سرد اور بھاری ہوتی ہیں۔ جب اسے قابو میں رکھنے والی مقناطیسی قوتیں غیر متوازن ہو جاتی ہیں، تو یہ ربر بینڈ کی طرح ٹوٹ کر پیچھے ہٹتی ہیں اور تمام تر دباؤ کے ساتھ یہ بھاری گیسیں خلا میں پھیل جاتی ہیں۔
اس وقت یہ مادہ تقریباً 1400 کلومیٹر فی سیکنڈ کی طوفانی رفتار سے سفر کرتا ہوا زمین کے قریب پہنچ چکا ہے۔ امریکی خلائی موسم کی پیشگوئی کرنے والے مرکز نے اسے جی 3 یعنی ایک طاقتور مقناطیسی طوفان قرار دیا ہے۔
جب سورج کی یہ توانائی زمین کی مقناطیسی ڈھال سے ٹکراتی ہے تو زمین کے ماحول میں ایک عارضی ہلچل پیدا ہوتی ہے جسے ’جیو میگنیٹک اسٹورم‘ کہا جاتا ہے۔ اسی ٹکراؤ کے نتیجے میں چارج شدہ ذرات زمین کے بالائی ماحول کی گیسوں سے مل کر سبز، ارغوانی اور سرخ رنگ کی خوبصورت لہریں بناتے ہیں جو آسمان پر تیرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
زمین کی اپنی مقناطیسی ڈھال ہمیں ان طوفانوں کے براہ راست اثرات سے محفوظ رکھتی ہے، لیکن یہ روشنیاں کتنی چمکدار ہوں گی اور کتنی دور تک دیکھی جا سکیں گی، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ سورج سے آنے والے اس طوفان کا مقناطیسی رخ زمین کے مقناطیسی رخ کے کتنا مخالف ہے۔ اگر یہ رخ بالکل الٹ ہوا تو زمین کی ڈھال میں کچھ دیر کے لیے شگاف بنتا ہے اور سورج کی توانائی اندر داخل ہو کر آسمان کو رنگوں سے بھر دیتی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ طوفان کی شدت اگر زیادہ بڑھی تو یہ روشنیاں قطبی علاقوں سے نکل کر کم بلندی والے علاقوں جیسے کہ چین اور بھارت کے کچھ علاقے، وسطی یورپ کے کچھ حصے، جنوی آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور امریکا کے مختلف حصوں میں بھی آسمانوں پر سبز، جامنی اور سرخ روشنیوں کے خوبصورت مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔، بشرطیکہ وہاں رات کو آسمان صاف اور تاریک ہو۔
سائنسدانوں کے مطابق اس طوفان کی شدت کا اصل فیصلہ اس وقت ہوگا جب یہ شمسی مواد زمین کے قریب موجود سیٹلائٹس تک پہنچے گا۔ اس وقت صرف 15 سے 60 منٹ پہلے واضح اندازہ ہو سکے گا کہ اس کے اثرات کتنے مضبوط ہوں گے۔
اس سے قبل مئی 2024 میں بھی اسی طرح کا ایک شدید طوفان آیا تھا جس نے دنیا بھر کے آسمان کو رنگین کر دیا تھا۔ فلکیات کے ماہرین اور تصویریں بنانے کے شوقین افراد اب اس طوفان کے زمین سے ٹکرانے کے حتمی لمحات کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ اس نایاب منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں اور کیمروں میں محفوظ کر سکیں۔
















