کراچی سے خیبر تک آٹے کا بحران ، 70 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگا

اپ ڈیٹ 20 جنوری 2020 11:26am
فائل فوٹو

کراچی سے خیبر تک آٹے کا بحران مزید بڑھ گیا، کراچی اور لاہور سمیت مختلف شہروں میں 70روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگا، چکی اور فلور ملز مالکان نے آٹے کی قیمت میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کردیا۔

گداگروں کی یہ صدائیں کبھی صرف گلیوں میں گونجا کرتی تھیں !آج پورے ملک میں یہ صدائیں گونج رہی ہیں،عوام کی بلند ہوتی آوازوں میں مزید شدت آگئی، آٹے کا بحران مزید بڑھ گیا۔

وفاق کی نااہلی یا صوبوں کی غیر ذمہ داری ہے،یہ حقیقت ہے کہ آٹے کی بحران نے ہر پاکستانی کو پس دیا ،عوام کی بھلائی کے دعوے تو بہت کئےلیکن لگتا ہے سب ہوا ہوئے،اگر عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال کر پیسا جمع کرنا ہےتو معاشی ٹیم کا کیافائدہ،معاشی ٹیم کی کارکردگی کا کچھ پتہ نہیں لیکن آٹا مہنگا کرکے عوام کو مہنگائی کا زخم درد دے رہا ہے۔

 مہنگائی کے مارے عوام 2وقت کی روٹی سے بھی محروم ہوگئے،کیا واقعی آٹے کا بحران ہے؟یا یہ ذخیرہ اندوزوں کا اقدام ہے! انتظامیہ سارے عمل سے انجان ہے۔

  کراچی میں آٹا 70 روپے کلو میں فروخت ہونے لگا جبکہ   لاہور میں بھی آٹے کی قیمت 70روپے کلو ہوگئی۔

  اسلام آباد میں آٹا 65روپے فی کلو،پشاورمیں آٹا 60روپے کلومیں فروخت ہونےلگا جبکہ کوئٹہ میں آٹے کی قیمت 54روپے کلوہوگئی۔

  عوام نے تنقید کرتے ہوئے کہا  کہ حکومت نے مہنگائی کر کر کے  عوام سے زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیا ہے۔