نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لے کرقانونی چارہ جوئی کی ہدایت

اپ ڈیٹ 20 جنوری 2020 11:27am
فائل فوٹو

لاہور ہائی کورٹ نے  مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لے کر وفاقی حکومت کو قانون کے مطابق  قانونی چارہ جوئی کی ہدایت کر دی۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی درخواست پر سماعت کی،جس میں حکومت کی بیرون ملک علاج کے لیے شرائط کو چیلنج کیا گیا۔

نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے بتایا کہ سابق وزیراعظم ابھی برطانیہ میں زیر علاج ہیں اور ان کی میڈیکل رپورٹس عدالت میں داخل کرا دیں ہیں۔

دو رکنی بینچ نے استفسار کیا کہ درخواست گزار نواز شریف کب واپس آئیں گے،جس پر سابق وزیر اعظم کے وکیل نے بتایا کہ جیسے ہی ڈاکٹر انہیں فٹ قرار دیں گے واپس آ جائیں گے۔

وفاقی حکومت کے وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان نے نشاندہی کی کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ فراہم نہیں کی گئی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عدالت نے جو 4ہفتوں کا وقت دیا تھا وہ ختم ہو چکا ہے نواز شریف وہاں پر گھوم پھر رہے ہیں اور برگر کھا رہے۔

فاضل بینچ کے رکن چوہدری مشتاق احمد نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے دلائل پر قرار دیا کہ سرکاری وکیل سیاسی بیان نہ دیں قانون کے مطابق بات کریں۔

لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کی درخواست پر سماعت غیرمعینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی۔