انسداد دہشتگردی عدالت کا چار مجرموں کو دوبار عمر قید کا حکم

شائع 20 جنوری 2020 02:05pm
فائل فوٹو

انسداد دہشتگردی کی عدالت میں 25سالہ نوجوان کے اغواء برائے تاوان اور دہشتگردوں کی مالی معاونت کا جرم ثابت ہوگیا۔عدالت نے چار مجرموں کو مجموعی طور پر دو بار عمر قید کا حکم دے دیا۔

انسداد دہشتگردی عدالت نے مجرموں مختیار احمد، نعیم،روح اللہ، اور علی اکبر کو سزا سنائی۔عدالت نے محکمہ داخلہ اور آئی جی سندھ کو بھی میکینزم بنانے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں  کہا کہ مغوی اور اس کے اہلخانہ کو اغواکاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ ایک لائحہ عمل بنایا جائے جس میں مغویوں کی بازیابی کےلئےایڈوانس فنڈ موجود ہو،کسی جان تاوان کی عدم ادائیگی پر نہ جاسکے اور مغویوں کی زندگی کو بچایا جاسکے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے 7فروری 2018کو 25سالہ راحیل کو گلستان جوہر سے اغواء کیا۔مغوی کی رہائی کےلئےافغانستان سے فون کرکے 35کروڑ تاوان طلب کیا۔

مغوی کے والد نور عالم نے ڈیڑھ کروڑ تاوان کی رقم ادا کی۔تاوان کی رقم حوالہ کے زریعے افغانستان منتقل کی گئی۔

مغوی کو رقم ملنے کے تین ماہ 25دن بعد رہا کیا گیا۔مذکورہ رقم کالعدم داعش کو دی گئی۔رقم ملک میں دہشتگردی کےلئے استعمال کی گئی۔

عدالت نے مجرموں کو معالی معاونت اور حبس بے جا میں رکھنے کے الزام میں بھی مزید 9سال قید کا حکم دےدیا۔