وزیراعلیٰ سندھ سے شیخ رشید کی ملاقات ، کراچی سرکلر ریلوے پر بات چیت
فائل فوٹوکراچی :وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے ملاقات کی،جس میں کراچی سرکلرریلوے کی بحالی سے متعلق امور پر بات جیت کی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے وزیر ریلوے شیخ رشید نے 5رکنی وفد کے ہمراہ وزیراعلی ہاوس میں ملاقات کی،جس میں کمشنر کراچی اور ڈی ایس ریلویز پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی۔
دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں کراچی سرکلرریلوے کی بحالی سے متعلق امور پر بات جیت کی گئی۔
ترجمان وزیراعلی سندھ کے مطابق وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا ملاقات میں کہنا تھاکہ مئی 2017ء میں چین گیا تھا جہاں سی پیک کے حوالے بات چیت ہوئی پھر 2018 میں الیکشن ہوئے، نئی حکومت آگئی تو سی پیک کی رفتار کم ہو گئی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ کے یو ٹی سی اب سندھ کو ٹرانسفر کیا جائے، ریلوے اراضی پر تجاوزات 40 کلومیٹرز تھی جس میں 38 کلومیٹرز کلیئر ہوگئی ہیں، متاثر لوگوں کی بحالی کا کام کرنا ہے۔
وزیر ریلوے کا کہنا تھا کے یو ٹی سی سندھ حکومت کو دینے کے لیے تیار ہیں، متاثرہ لوگوں کو ریلوے کی کسی زمین پر گھر بنا کر دیں گے۔
ترجمان وزیراعلی سندھ کے مطابق اجلاس میں ایک کمیٹی قائم کی گئی، کمیٹی میں کمشنر کراچی اور ڈی ایس ریلویز شامل ہوں گے۔
ملاقات میں چیف سیکریٹری، مشیر قانون، کمشنر کراچی، چیئرمین ریلویز دوست علی لغاری اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے۔
شیخ رشید نے مرتضی وہاب کے ہمراہ کالا پُل کا دورہ
دوسری جانب وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے وزیر اعلی سندھ سے ملاقات کے بعد ترجمان سندھ حکومت مرتضی وہاب کے ہمراہ کالا پُل کا دورہ کیا، اس موقع پر ریلوے افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیرریلوے سی ایم ہاؤس آئے تھے، سب ایک پیج پر تھے کہ شہریوں کو سفری سہولت ملنی چاہیئے، اپریل میں چین میں میٹنگ ہونے جارہی ہے اس میں سندھ حکومت اوروفاق ساتھ ہوگی فروری تک ہم اس ریلوے کے معاملے کو حل کریں گے۔
زیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ہم مفاد عامہ کے مسائل کے حل کے لیے کام کررہے ہیں، چنیسر ہالٹ کے قریب 5 کلو میٹر کا علاقہ ہے اسے بھی کلیئرکریں گے، کراچی سرکلر ریلوے کے متاثرین کی بحالی کے لئے وفاق اور سندھ حکومت مل کر کام کرے گی۔
شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ کراچی سرکلر ریلوے اورفریٹ ٹرین کے منصوبے کو سی پیک کےساتھ جوڑا گیاہے، سرکلر ریلوے کا چالیس کلومیٹر میں سے 38 کلومیٹر کا ٹریک خالی ہوچکا ہے ۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔