تہران کے قریب امریکی بمباری کے بعد بحرین و کویت میں ایرانی حملے، آبنائے ہرمز بند

پہلے حملے میں کیش، سیریک، میناب اور بندر عباس شامل تھے، جبکہ دوسرے مرحلے میں اصفہان اور تہران کے مغرب میں واقع شہر کرج میں دھماکے سنے گئے۔
شائع 11 جون 2026 08:35am

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر شدید فضائی اور میزائل حملے کیے گئے ہیں۔ امریکی صدر کی ہدایت پر امریکی افواج نے ایران کے اندر کئی شہروں پر بمباری کی، جس کے جواب میں ایران نے خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے اندر دوسرے روز بھی مسلسل فضائی حملے کیے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اپنے دفاع میں کی گئی ہیں جن میں ایران کے فوجی نظام، مواصلاتی نیٹ ورک اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے رات بھر میں دو سے تین لہروں میں ایران کے تقریباً ایک درجن شہروں اور صوبوں کو نشانہ بنایا۔

پہلے حملے میں کیش، سیریک، میناب اور بندر عباس شامل تھے، جبکہ دوسرے مرحلے میں اصفہان اور تہران کے مغرب میں واقع شہر کرج میں دھماکے سنے گئے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ امریکی افواج نے ایران میں متعدد اہداف کے خلاف اضافی دفاعی حملے مکمل کر لیے ہیں اور امریکی فورسز خطے میں کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے پوری طرح چوکس اور تیار ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک بڑا انکشاف کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایران کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے 49 ٹوماہاک میزائل استعمال کیے گئے، جن میں سے کچھ اہداف ایرانی دارالحکومت تہران سے محض 40 میل کی دوری پر تھے۔

صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے امریکی مذاکرات کاروں کے معاہدے پر دستخط نہ کیے تو امریکا اگلی رات پھر بمباری کرے گا۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حملوں کے بعد اعلیٰ ایرانی حکام نے ان سے رابطہ کر کے بمباری روکنے کی درخواست کی ہے۔ تاہم، ایران نے اس بات کی تردید کی ہے۔

اس بڑی امریکی کارروائی کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے بھی انتہائی سخت ردعمل دیا ہے۔

ایرانی فوجی کمان نے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے لیے اہم ترین راستے، آبنائے ہرمز کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تمام جہازوں کو وہاں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ان کی فورسز نے بند راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو بحری جہازوں کو نشانہ بھی بنایا ہے۔

اس کے علاوہ ایران نے دو مرحلوں میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین اور دیگر خلیجی علاقوں میں موجود امریکی تنصیبات پر حملہ کیا، جس میں امریکی فوج کی میزبانی کرنے والے 18 بیسز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ایران کے مطابق کویت میں ال سالم، احمد الجابر اور بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا اور امریکی ففتھ فلیٹ پر ڈرون حملہ کیا گیا ہے۔

اس جنگی صورتحال کے باعث کویت کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایرانی جارحیت کے پیش نظر احتیاطی تدابیر کے طور پر ملک کی فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کیا جا رہا ہے اور تمام پروازوں کو متبادل ہوائی اڈوں کی طرف موڑ دیا جائے گا۔