پاکستان سازگار ماحول پیدا کر سکتا ہے فیصلے نہیں کر سکتا،وزیرخارجہ

شائع 03 مارچ 2020 10:50am
فائل فوٹو

اسلام آباد:وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان سازگار ماحول پیدا کر سکتا ہے مگر فیصلے نہیں کر سکتا،امریکا طالبان معاہدے میں قیدیوں کا تبادلہ درج ہے،قیدیوں کی رہائی یکطرفہ نہیں دو طرفہ ہو گی،صدر اشرف غنی اور طالبان فراخ دلی کا مظاہرہ کریں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان امن عمل کے حوالے سے کہا کہ امن معاہدے کو گوانا نہیں چاہیئے، افغان قیادت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ گفتگو آگے بڑھانے کیلئے سازگار ماحول پیدا کرے ۔

وزیر خارجہ نے امن معاہدے کو بہت بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوحہ میں جو ہوا وہ پہلا قدم تھا اب اگلا قدم انٹرا افغان مذاکرات ہیں،افغان صدر اشرف غنی ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھیں اور طالبان  بھی فراخدلی کا مظاہرہ کریں،یہ عمل آسان نہیں ہے لیکن کامیاب نہیں ہوتا تو نقصان افغانستان کا ہو گا۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ 20سال کی جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوا،جنگ کوئی راستہ نہیں،اب فریقین کو ایک دوسرے کیلئے گنجائش پیدا کرنی ہو گی،افغان قیادت اور تمام دھڑوں کیلئے آ زمائش کا وقت ہے، پاکستان نیک نیتی سے چاہتا ہے معاملات سدھریں۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام چاہتا ہے،پاکستان نے جو کردار ادا کرنا تھا وہ کیااوردنیا نے اس کو سراہا،اس معاہدے پر اگلا قدم اٹھانا افغانوں کا کام ہے،اس میں آ گے بڑھنے کیلئے افغان جو اقدامات اٹھائیں گے پاکستان ان کی حمایت کرے گا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان سازگار ماحول پیدا کر سکتا ہے مگر ان کے فیصلے نہیں کر سکتا،امریکا طالبان معاہدے میں قیدیوں کا تبادلہ درج ہے، صدر اشرف غنی کو چاہیئے  کہ وہ معاہدے کی وضاحت امریکا سے مانگیں، زلمےخلیل زاد مذاکرات پر افغان قیادت کو آگاہ کرتے رہے ہیں۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں بھی قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے،  جب جنگ سے امن کی طرف بڑھتے ہیں توخیر سگالی کیلئے یہ کرنا پڑتا ہے، قیدیوں کی رہائی یکطرفہ نہیں دو طرفہ ہو گی ،اگرہٹ دھرمی سے کام لینا ہے تو بات آ گے نہیں بڑھ پائے گی۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ  یہ ایک منطقی قدم ہے جو اٹھنا چاہیے، معاہدوں کے ساتھ رویوں کو بھی ٹھیک کرنا ہوں گے، رکاوٹیں ڈالنے والے تو پہلے بھی تھےاب سیاسی قیادت کا کمال یہ ہے کہ وہ ان کو نا کام کریں۔