پنکی کیس: منشیات فروشی کے لیے معروف آن لائن شاپنگ برانڈ کا نام استعمال ہونے کا انکشاف

پنکی کے ساتھی پولیس اہلکاروں اور افسران کے نام آئی جی سندھ کو پیش
اپ ڈیٹ 19 مئ 2026 03:29pm

کراچی میں مبینہ کوکین کوئین انمول عرف پنکی کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، منشیات فروشی کے لیے معروف آن لائن شاپنگ برانڈ کا نام استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس حوالے سے پولیس کی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ جمع کرا دی ہے، جبکہ رپورٹ آئی جی سندھ کو بھی پیش کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ میں متعدد پولیس افسران اور اہلکاروں کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں، جن پر منشیات فروش نیٹ ورک سے مبینہ روابط یا غفلت برتنے کے الزامات ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ آئی جی سندھ اور کراچی پولیس چیف کو ارسال کر دی گئی ہے۔ تحقیقات کے دوران مجموعی طور پر دس سے زائد پولیس افسران اور اہلکاروں کے بیانات قلمبند کیے گئے، جبکہ رپورٹ میں بعض اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملزمہ پنکی کو عدالت میں پیشی کے دوران موبائل فون فراہم کیا گیا، جو سیکیورٹی اور عدالتی ایس او پیز کی کھلی خلاف ورزی قرار دی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ساؤتھ زون اور گارڈن تھانے سے تعلق رکھنے والے ایک افسر کے مسلسل رابطوں کا سراغ ملا، جبکہ واٹس ایپ کے ذریعے ہر لمحے کی صورتحال شیئر کیے جانے کا بھی ذکر موجود ہے۔

تحقیقات میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کے بعد دو پولیس افسران کو قانونی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ ایس ایچ او گارڈن، ایس آئی او اور تفتیشی افسر (آئی او) کو پہلے ہی معطل کیا جا چکا ہے۔

آئی جی سندھ نے واضح کیا ہے کہ پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔

دوسری جانب تحقیقات میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمہ پنکی کا نیٹ ورک آن لائن آئس فروخت کرنے کے لیے ایک معروف آن لائن شاپنگ برانڈ کا نام استعمال کرتا رہا۔

ذرائع کے مطابق منشیات کی ترسیل کے لیے اسی برانڈ کے بیگز استعمال کیے جاتے تھے تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔

تحقیقاتی ذرائع نے بتایا کہ چند ماہ قبل ایک خفیہ ویڈیو بھی بنائی گئی تھی، جس میں مبینہ طور پر ایک کسٹمر کو رائیڈر سے پارسل وصول کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں یہ بھی سامنے آیا کہ رائیڈر پارسل کی ترسیل کے عوض 500 روپے اجرت وصول کرتا تھا۔

ذرائع کے مطابق بیشتر رائیڈرز اس بات سے لاعلم ہوتے تھے کہ ان کے ذریعے پہنچائے جانے والے پارسلز میں منشیات موجود ہے۔ تاہم ایک کارروائی کے دوران پارسل کھولنے پر اس کے اندر موجود پیکٹ سے آئس برآمد ہونے کا انکشاف ہوا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور آن لائن منشیات فروشی میں ملوث تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل کراچی میں ملزمہ انمول عرف پنکی کی مختلف مقدمات میں ریمانڈ کے حصول کے لیے پیشی کے معاملے پر جوڈیشل کمپلیکس میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے اور میڈیا کو کوریج سے روک دیا گیا تھا۔

تفتیشی افسران نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت سے اجازت طلب کی تھی کہ ملزمہ انمول عرف پنکی کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے جوڈیشل کمپلیکس میں پیش کیا جائے۔

پولیس کے مطابق ملزمہ کو چار مختلف مقدمات میں ریمانڈ کے حصول کے لیے عدالت میں پیش کرنا تھا، تاہم سٹی کورٹ میں پیشی کے دوران ممکنہ سیکیورٹی خدشات کے باعث استدعا کی گئی تھی کہ کارروائی جوڈیشل کمپلیکس میں ہی مکمل کی جائے۔

عدالتی سطح پر اجازت کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ کو کمپلیکس میں طلب کیا گیا تھا، جبکہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور داخلی و خارجی راستوں پر کنٹرول سخت کر دیا گیا تھا۔

دوسری جانب جوڈیشل کمپلیکس میں صحافیوں کا داخلہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔

سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے واضح ہدایت جاری کی گئی تھی کہ کوئی بھی صحافی کمپلیکس کے اندر داخل نہ ہو سکے۔ اس موقع پر میڈیا نمائندوں کو کوریج سے روکنے کی کوششیں بھی کی گئیں تھیں۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ روز بھی صحافیوں کو جوڈیشل کمپلیکس سے باہر نکال دیا گیا تھا۔ اس سے قبل ملزمہ پنکی کی پیشی کے دوران مبینہ طور پر دی جانے والی سہولیات اور مراعات کی کوریج کے بعد بعض مقتدر حلقوں نے واقعے کا نوٹس لیا تھا۔