پنکی کے انکشافات پر ملک گیر کریک ڈاؤن، افریقی باشندوں سمیت 24 افراد گرفتار
منشیات کے بین الصوبائی نیٹ ورک کی مرکزی کردار ملزمہ انمول عرف پنکی کے انکشافات کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آگئے ہیں اور 24 افراد کو گرفتار کیا کرلیا گیا ہے۔دوسری جانب عدالت نے مختلف مقدمات میں ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کر دی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ’کوکین کوئین‘ انمول عرف پنکی کے انکشافات کے بعد مختلف شہروں میں کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ کراچی، راولپنڈی اور قصور سمیت متعدد علاقوں سے دو درجن سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
تحقیقات کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد میں 11 افریقی باشندے بھی شامل ہیں جو منشیات اسمگل کر کے اسے پاکستان میں انمول عرف پنکی تک پہنچاتے تھے۔ ان افریقی باشندوں نے پاکستانی خواتین سے شادیاں بھی کر رکھی تھیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نیٹ ورک سے وابستہ مزید افراد کو بھی جلد گرفتار کیا جاسکتا ہے، جس کے لیے تحقیقات کا دائرہ پھیلایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب کراچی کی سٹی کورٹ نے انمول عرف پنکی کے خلاف درج 12 سے زائد مقدمات میں 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ میں پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔
ہفتے کے روز ملزمہ کی عدالت پیشی کے موقع پر ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی اور ملزمہ نے پولیس پر زبردستی بیانات دلوانے اور جھوٹے مقدمات بنانے کے بھی الزامات لگائے۔ جس پر تفتیشی افسر نے ملزمہ کے تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔
گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے بتایا تھا کہ تفتیش کے دوران پنکی کے موبائل فون سے 869 نمبرز ملے ہیں اور ایک بینک اکاؤنٹ میں تین کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ملزمہ کے نیٹ ورک کا حصہ 9 بائیک رائیڈرز میں سے آٹھ کا تعلق پنجاب سے ہے، اور پولیس نے نیٹ ورک سے جڑے چار اہم ناموں کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کی درخواست کر دی ہے۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق انمول عرف پنکی مختلف تھانوں میں درج متعدد مقدمات میں نامزد اور مفرور قرار دی جا چکی ہے۔ ریکارڈ کے مطابق اسے پہلی مرتبہ 2018 میں کراچی میں اور 2024 میں لاہور میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم اثر و رسوخ اور مالی معاملات کے باعث اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکی تھی۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمہ کراچی سے لاہور تک پھیلے اربوں روپے مالیت کے منشیات نیٹ ورک کی مرکزی کردار ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق اس نیٹ ورک میں اس کے قریبی رشتہ دار، خصوصاً اس کے بھائی بھی شامل ہیں، جبکہ منشیات کی ترسیل کے لیے خواتین بائیک رائیڈرز کا استعمال کیا جاتا تھا۔
ذرائع کے مطابق تفتیشی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزمہ نہ صرف منشیات کی سپلائی بلکہ کوکین کی تیاری میں بھی مہارت رکھتی تھی اور اس نے مبینہ طور پر منشیات کا اپنا الگ “برانڈ” متعارف کرا رکھا تھا۔















