سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد بھارت کی ہٹ دھرمی برقرار

بھارت نے سندھ طاس معاہدے پر ثالثی عدالت کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے معاہدے کی معطلی برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
شائع 16 مئ 2026 07:11pm

بھارت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق ثالثی عدالت کے حالیہ فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے عدالت کے قیام کو ہی غیر قانونی قرار دے دیا۔ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے اپنے فیصلے پر قائم ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق ثالثی عدالت کے حالیہ فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھی اور کہا کہ بھارت نے اس ’نام نہاد‘ عدالت کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔

رندھیر جیسوال کے مطابق 15 مئی 2026 کو ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کی تشریح سے متعلق ایک ضمنی فیصلہ جاری کیا، تاہم نئی دہلی نے اس فیصلے کو بھی غیر قانونی اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

بھارتی حکومت کے مطابق یہ ثالثی عدالت غیر قانونی طور پر قائم کی گئی تھی اور نئی دہلی اس کے تمام سابقہ فیصلوں کی طرح حالیہ اعلان کو بھی تسلیم نہیں کرتا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اس عدالت کی جانب سے جاری کردہ کوئی بھی کارروائی، فیصلہ یا ایوارڈ بھارت کی نظر میں کالعدم اور بے حیثیت ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

رندھیر جیسوال نے مزید کہا کہ بھارت نے کبھی اس نام نہاد کورٹ آف آربیٹریشن کے قیام کو تسلیم نہیں کیا، اس لیے اس کے تحت ہونے والی تمام قانونی کارروائیاں مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے سے متعلق بھارت کا فیصلہ بدستور برقرار ہے۔

مبصرین کے مطابق ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد بھارت کا سخت اور مسلسل ردعمل اس کی بوکھلاہٹ اور ہٹ دھرمی کو ظاہر کرتا ہے، جسے سفارتی دباؤ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جب کہ پاکستان مسلسل سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد اور عالمی ثالثی نظام کی حمایت کرتا آیا ہے۔

یاد رہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو پاکستان اور بھارت کے مابین عالمی بینک کی ثالثی سے 1960 میں معاہدہ طے پایا تھا۔ اس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک مستقل حل اور منصفانہ طریقہ کار بنانا تھا، کیونکہ برصغیر کی تقسیم کے بعد دریاؤں کا نظام مشترکہ تھا۔

معاہدے کے تحت بھارت کو 3 مشرقی دریاؤں بیاس ، راوی اور ستلج کا زیادہ پانی ملتا ہے، تینوں مشرقی دریاؤں پر بھارت کا کنٹرول زیادہ ہوگا۔ مقبوضہ کشمیر سے نکلنے والے مغربی دریاؤں چناب اور جہلم اور سندھ کا زیادہ پانی پاکستان کو استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔

معاہدے کے باوجود بھارت کی جانب سے مسلسل اس کی خلاف ورزیاں جاری رہی ہیں، بھارت نے معاہدے کے باوجود پاکستان کو پانی سے محروم رکھا ہے۔ مزید یہ کہ بھارت کو ان دریاؤں کے پانی سے بجلی بنانے کا حق تو ہے لیکن پانی ذخیرہ کرنے یا بہاؤ کو کم کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔

اس معاہدے کی ضرورت 1948 میں اس وقت پیش آئی جب انڈیا کی جانب سے مشرقی دریاؤں کا پانی بند کردیا گیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث عالمی برادری متحرک ہوئی اور 19 ستمبر1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا۔