چینی صدر نے آبنائے ہرمز کھولنےمیں مدد کی پیشکش کی ہے: ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر کا ایران پر دباؤ بڑھانے کا عندیہ دے دیا
شائع 16 مئ 2026 02:38pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنی چاہیے، تاہم چین نے اس حوالے سے براہِ راست کسی دباؤ کی تصدیق نہیں کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلونے پر اتفاق کیا ہے تاہم چین نے براہ راست مداخلت کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنی چاہیے، تاہم چین نے اس حوالے سے براہِ راست کسی دباؤ کی تصدیق نہیں کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایران اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر غور کررہے ہیں کہ ایرانی تیل خریدنے والی چینی کمپنیوں پر عائد امریکی پابندیاں نرم کی جائیں یا نہیں۔ چین اس وقت ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار سمجھا جاتا ہے۔

ایک صحافی کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ وہ چین سے کوئی احسان نہیں مانگ رہے کیونکہ ’’احسان کے بدلے احسان کرنا پڑتا ہے‘‘، تاہم ان کے مطابق شی جن پنگ اس بات سے متفق تھے کہ ایران کو آبنائے ہرمز کھول دینی چاہیے۔

چینی وزارت خارجہ نے اگرچہ ٹرمپ کے دعوے پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم ایران جنگ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا تنازع تھا ’’جو کبھی شروع ہی نہیں ہونا چاہیے تھا اور نہ ہی اسے جاری رہنا چاہیے۔‘‘

یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد ایران نے مؤثر طور پر آبنائے ہرمز بند کردی تھی۔ اس اہم گزرگاہ سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی رہی ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی سطح پر تیل کی فراہمی شدید متاثر ہوئی، جبکہ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جمعے کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 3 فیصد اضافے کے بعد 109 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

رپورٹس کے مطابق امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں ہزاروں ایرانی شہری ہلاک ہوئے، جبکہ لبنان میں بھی حزب اللہ ماہ فضائی حملے روکنے کے بعد ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کردی تھی، جس پر تہران نے واضح کیا کہ جب تک امریکی ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، آبنائے ہرمز مکمل طور پر نہیں کھولی جائے گی۔

بیجنگ میں شی جن پنگ کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’’ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں، ہم چاہتے ہیں کہ آبنائے کھلی رہے۔‘‘

ایران مسلسل یہ مؤقف دہراتا آیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم تہران نے جوہری تحقیق روکنے یا افزودہ یورینیم کے ذخائر ترک کرنے سے انکار کیا ہے۔

دوسری جانب ایران نے عندیہ دیا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت کی صورت میں آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال ہوسکتی ہے۔

اُدھر بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صحافیوں کو بتایا کہ تہران کو امریکا کی جانب سے ایسے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران چاہتا ہے کہ سفارت کاری کو ایک موقع دیا جائے تاکہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جاسکے اور بحری ٹریفک معمول پر لائی جاسکے، تاہم انہوں نے امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا۔