صدر ٹرمپ ایران پر دوبارہ حملہ کرنے سے ہچکچا رہے ہیں: سربراہ ایرانی مجلس شوریٰ
ایران کی مجلس شوریٰ کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران کے سخت رد عمل کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ حملہ کرنے سے ہچکچا رہے ہیں کیوں کہ وہ ایرانی فوج کے سخت اور فیصلہ کن ردعمل سے خوفزدہ ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے خلیج فارس کے ممالک کے سربراہوں کی کوئی اہمیت نہیں۔
منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ایرانی مجلس شوری کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف کسی بھی نئی کارروائی میں ہچکچاہٹ کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ ایرانی مسلح افواج کے مضبوط جواب اور ایرانی قوم کے اتحاد سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کو خلیج فارس کے ممالک کے سربراہان کی ثالثی یا کردار کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ایرانی رہنما کے مطابق طاقت ہی وہ واحد زبان ہے جسے امریکا سمجھتا ہے جب کہ ایران کے خلاف کسی بھی “مہم جوئی” کی صورت میں فیصلہ کن ردعمل سامنے آئے گا۔
ابراہیم عزیزی نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی کسی بھی نئی جارحانہ کارروائی میں تاخیر کی وجہ ایرانی فوج کے ممکنہ سخت جواب کا خوف ہے۔
دشمن نے جارحیت کی حماقت کی تو ایران نئے محاذ کھولے گا: ایران
اس سے قبل ایران کی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے خبردار کیا ہے کہ اگر دشمن دوبارہ اسرائیل کے جال میں آکر ایران کے خلاف کسی نئی جارحیت کا ارتکاب کرتا ہے تو ہم اس کے خلاف نئے محاذ کھولیں گے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق منگل کو ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیر جنرل محمد اکرمینیا نے تہران کے ولی عصر اسکوائر میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو نہ محاصرے میں لیا جاسکتا ہے اور نہ شکست دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دشمن نے دوبارہ ’’غلطی‘‘ کی اور صہیونیوں کے جال میں آکر ایران پر حملہ کیا تو ایران نئے ہتھیاروں اور نئے طریقوں سے جواب دے گا۔
ترجمان ایرانی فوج نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے جنگ بندی کے دوران اپنی دفاعی اور جنگی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کیا ہے اور اس عرصے کو بھی جنگی تیاری کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز سے متعلق بات کرتے ہوئے بریگیڈیر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا کہ ایران کو اس اہم آبی گزرگاہ پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور اب وہاں صورت حال پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کے پاس واحد راستہ یہی ہے کہ وہ ایرانی قوم اور اسلامی جمہوریہ ایران کے قانونی حقوق کا احترام کرے۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی تجاویز کا تبادلہ جاری ہے جب کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک عبوری جنگ بندی بھی موجود ہے۔ ایرانی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران نے امریکی تجاویز کا جواب دے دیا ہے تاہم بعض مطالبات کو زیادہ سخت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق امریکی تجاویز میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق شرائط شامل ہیں جب کہ ایران نے منجمد اثاثوں کی بحالی اور پابندیوں کے خاتمے سمیت اپنے مطالبات بھی پیش کیے ہیں۔
خیال رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف کارروائیاں کیں، جن میں جوہری تنصیبات، اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے اس کے جواب میں آپریشن صادق 4 کے تحت جوابی حملے کیے جب کہ آبنائے ہرمز میں نئی بحری پابندیاں بھی نافذ کی گئیں، جن کے تحت تمام بحری جہازوں کو گزرنے سے قبل ایرانی اجازت لینا ہوگی۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی برقرار ہے تاہم امریکی بحری ناکہ بندی ختم ہونے اور مستقل امن قائم ہونے تک آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال نہیں کی جائے گی۔













