ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قاتل کو سزائے موت کا حکم

عدالت نے کہا ہے کہ ملزم عمر حیات کو 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا
شائع 19 مئ 2026 03:37pm

اسلام آباد کی سیشن عدالت نے ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی ہے۔ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے آج محفوظ شدہ فیصلہ سنایا اور ملزم کو سزائے موت سنائی ہے۔

ذرائع کے مطابق عدالت نے کہا ہے کہ ملزم عمر حیات کو 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا، اس کے علاوہ ملزم عمر حیات کو دیگر دفعات میں 10 سال قید کی بھی سزا سنائی گئی۔

عدالتی فیصلے کے بعد ٹک ٹاکر ثنا یوسف کی والدہ کا بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پولیس اور میڈیا نے ہمارا بہت ساتھ دیا ہے، آج عدالت سے ہمیں انصاف مل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عدالت کے فیصلے پر بہت خوش ہیں، مجرم کو سرعام پھانسی ہونی چاہیئے۔

واضح رہے کہ ملزم عمر حیات نے 3 جون کو اسلام آباد میں 17 سالہ ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو اسلام آباد کے سیکٹر جی 13 میں ان کے گھر میں گھس کر فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا جبکہ ملزم کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ پولیس نے ملزم کو 3 جون 2025 کو جڑانوالہ سے گرفتار کیا تھا۔

اس کیس کی 50 سے زائد سماعتیں ہوئیں اور چالان میں 31 گواہان کی فہرست فراہم کی گئی جبکہ مجموعی طور پر 27 گواہان نے عدالت میں اپنے بیانات ریکارڈ کروائے۔

مقتولہ کی والدہ اور پھوپھی نے واقعے کے چشم دید گواہان کے طور پر بیان ریکارڈ کروائے تھے۔

عدالت نے گزشتہ برس 20 ستمبر کو ملزم عمر حیات پر فرد جرم عائد کی تھی جبکہ 25 ستمبر کو استغاثہ کے پہلے گواہ نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

17 سالہ ٹک ٹاکر اپنی سوشل میڈیا سرگرمیوں کے لیے مشہور تھیں، ان کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر تقریباً 8 لاکھ فالوورز اور انسٹاگرام اکاؤنٹ پر تقریباً 5 لاکھ فالوورز تھے۔