سی ڈی اےکاملازمین پرکنٹرول نہیں، چیئرمین سےزیادہ کلرک طاقتور ہیں،چیف جسٹس
فائل فوٹواسلام آباد:وفاقی دارالحکومت میں ماحولیاتی آلودگی کیس میں چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ سی ڈی اے کا اپنے ملازمین پر کوئی کنٹرول نہیں، چیئرمین سے زیادہ کلرک طاقتور ہیں،ایسی صنعتوں کو نہ چلائیں جو اسلام آباد کو آلودہ کریں، آرٹیکل 140 اے کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ،بلدیاتی اختیارات کا رونا صرف اسلام آباد کا ہی نہیں پورے ملک کا ہے۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے اسلام آباد میں ماحولیاتی آلودگی کیس کی سماعت کی ۔
چیئرمین سی ڈی اے عامر احمد علی نے عدالت کو بریفنگ میں بتایا کہ کشمیر ہائی وے کو بنانے جا رہے ہیں تاہم فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سی ڈی اے کا اپنے ملازمین پر کوئی کنٹرول نہیں، چیئرمین سے زیادہ کلرک طاقتور ہیں،جس پرچیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ جن کا تبادلہ کرتا ہوں وہ حکم امتناع لے آتے ہیں، کرپٹ ملازمین اور افسران کے کیسز ایف آئی اے کو بھجوا رہا ہوں۔
جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تمام تبادلوں پر جاری حکم امتناع ختم کریں گے، ایئرپورٹ سے ایوان صدر تک ہر جگہ قومی پرچم لگے ہونے چاہئیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آلودگی کے لحاظ سے اسلام آباد بدترین دارالحکومت ہے، اس شہر کا کوئی معیار تو بنائیں، شہریوں کو سہولیات فراہم کریں، لوگوں کیلئے بیٹھنے، چلنے اور تفریح کی جگہ ہونی چاہیئے، یقینی بنایا جائے انڈسٹریل ایریا میں ماحولیاتی آلودگی کیخلاف قوانین پر عمل ہوگا۔
جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ایسی صنعتوں کو نہ چلائیں جو اسلام آباد کو آلودہ کریں، آرٹیکل 140 اے کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، بلدیاتی اختیارات کا رونا صرف اسلام آباد کا ہی نہیں پورے ملک کا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ زائد المیعاد اشیاء منگوائی جاتی ہیں، دبئی والے اپنی ایکسپائر چیزیں پاکستان بھجوا دیتے ہیں، اسلام آباد کی اپنی فوڈ اتھارٹی بنائیں جو چیزوں کا جائزہ لے۔
عدالت نے میئر اسلام آباد کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد والوں کو ٹرانسپورٹ کیوں نہیں دیتے؟ کچھ نہیں کرنا تو کم از کم رکشے ہی چلا دیں تاکہ خواتین محفوظ سفر کر سکیں، سڑکوں سے نکل کر اب اسکائی اور زیرزمین ٹرین کی طرف آئیں۔
سپریم کورٹ نے بلدیاتی اختیارات کی منتقلی پر سیکرٹری داخلہ سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری داخلہ پیش ہو کر بتائیں آرٹیکل 140 اے پر عملدرآمد کیلئے کیا اقدامات کیے۔
سپریم کورٹ نے مارگلہ کی پہاڑیوں پر اسٹون کرشنگ روکنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جہاں کرشنگ ہوئی وہاں پر شجرکاری یقینی بنائی جائے۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔