سپریم کورٹ نے ڈی چوک پر لگا گیٹ ہٹانے کا حکم دے دیا

اپ ڈیٹ 19 مارچ 2020 10:51am
فائل فوٹو

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے عوامی پلاٹ کی حیثیت تبدیل کرنے سے متعلق کیس میں  ڈی چوک پرلگا گیٹ ہٹانے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے عوامی پلاٹ کی حیثیت تبدیل کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ڈی چوک پرلگا گیٹ ہٹایا جائے ، پارلیمنٹ ہاؤس دورسے نظرآنا چاہیئے،اسلام آباد کو وفاقی دارالحکومت رہنے دیں ، اسے ہنگامہ شہرنہ بنائیں،ری پلاننگ ہوئی توسپریم کورٹ کی جگہ شاپنگ مال نہ بن جائے۔

 چیف جسٹس نے چیئرمین سی ڈی اے کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ نقشہ لیں اور شہر میں نکل جائیں ،تجاوزات ہرجگہ سے ختم کرائیں ، ایسا نہ ہوکہ2 سے3لوگوں کے خلاف کارروائی ہو ۔

 چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ 8 پلاٹوں کی نشاندہی کی ہے،جن کی حیثیت کو تبدیل کیا گیا ۔

 چیف جسٹس نے کہاکہ ایسے 8 نہیں سینکڑوں پلاٹ ہوں گے، اسلام آباد کا نقشہ بدل دیا گیا ، گرین بیلٹ پر گھر یا کمرشل پلازے بن گئے،شہر کے درمیان میں چلے جائیں تودم گھٹتا ہے ، اسلام آباد نیا شہرتھا اس کے ساتھ کیا کیا؟۔

 وکیل سی ڈی اے نے کہا کہ دنیا کے شہروں میں اب ری پلاننگ بھی کی جاتی ہے،جس پرجسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پاکستان میں ری پلاننگ کا مطلب مال بنانا ہے  ۔

عدالت نے اسلام آباد کے کھیلوں کے میدان اور گرین بیلٹس سے قبضے بھی ختم کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 4 ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔