کروناوائرس پر قابو پانے اور نمٹنے کےلئے 7.21 ارب روپے ریلیز
فائل فوٹووزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے COVID-19 خطرے پر قابو پانے اور اس سے نمٹنے کےلئے7.21 ارب روپے بشمول 6.9 ارب روپے محکمہ صحت کو اور باقی رقم کمشنر سکھر کو ریلیز کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے خطرے پر قابو پانے اور اس سے نمٹنے کےلئے مزید فنڈز فراہم کروں گا لیکن یہ تب ممکن ہوگا جب ہم سب مل کر یکجہتی کے ساتھ کام کریں گے۔
یہ بات انہوں نے جمعرات کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں کوروناوائرس سے متعلق ٹاسک فورس کے 22 ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
اجلاس میں صوبائی وزراء، ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، سعید غنی، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، چیف سیکرٹری سید ممتاز شاہ، آئی جی سندھ مشتاق مہر، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، انڈس اسپتال کے چیف ڈاکٹر باری، آغا خان کے ڈاکٹر فیصل، بریگیڈیئر سمیع، کور 5، صوبائی سیکرٹریز، عثمان چاچڑ، حسن نقوی، نجم شاہ، ڈی جی پی ڈی ایم اے سلمان شاہ، ایئرپورٹ، سول ایوی ایشن، ایف آئی اے، ڈبلیو ایچ او کے نمائندے، فوکل پرسن ایم بی دھاریجو اور دیگر نے شرکت کی جبکہ سکھر سے صوبائی وزیر سید ناصر شاہ ، اویس شاہ اور کمشنر سکھر شفیق مہيسر ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شامل ہوئے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس کو بتایا کہ انہوں نے محکمہ صحت کو ادویات، سازوسامان، جنریٹرز، ڈائٹ چارجز، سینیٹائزر، کٹس اور swabs کی خریداری کےلئے محکمہ صحت کو 6.9 ارب روپے جاری کئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے کمشنر سکھر کو 16.7 ملین روپے اور 15.1 ملین روپے جاری کردیے ہیں تاکہ وہ لیبر کالونی میں قرنطینہ مرکز کی تیاری، سازو سامان کی خریداری، گاڑیوں کی خرید اری، خوراک کا معاوضہ اور زائرین کی مناسب دیکھ بھال پر خرچ کریں جوکہ تفتان سے یہاں دو مراحل میں پہنچے ہیں۔
نئے زائرین کے متعلق وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ تفتان سے 757 نئے زائرین پہنچ چکے ہیں۔
کمشنر نے بتایا کہ اب تک نئے آنے والے زائرین کے 180 نمونے لے کر ٹیسٹ کےلئے کراچی بھیجے گئے ہیں۔ تفتان سے 88 زائرین کا ایک اور دستہ لاڑکانہ پہنچا ہے اور انہیں لاڑکانہ کے شہید محترمہ بینظیر بھٹو یونیورسٹی اور ایئرجا کیمپس میں قائم قرنطینہ مرکز میں رکھا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ وہ زائرین کی دیکھ بھال کی لئے انہیں swabs اور کٹس بھیجیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ کراچی میں چار نئے کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے۔ کراچی میں 66 مریض ہیں جن میں ایک حیدرآباد اور 151 سکھر میں شامل ہے۔ مقامی طور پر منتقل ہونے والے کیسز کی تعداد 40 تک جا پہنچی ہے۔ صوبے میں کیسز کی تعداد 217 ہوگئی ہے۔
واضح رہے کہ محکمہ صحت نے مشتبہ افراد کے 1018 ٹیسٹ کیے ہیں ان میں سے 952 منفی اور 66 مثبت آئے ہیں۔ تفتان / سکھر سے آنے والے 302 زائرین کا معائنہ کیا گیا ان میں سے 151 منفی اور دیگر 151 مثبت پائے گئے ہیں۔
64 زیر علاج سمیت 66 کیسز کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
8 کیسز میں سیریا کی سفری تاریخ ہے، 3کی دبئی، 4 ایران، 40 مقامی، ایک قطر، 6 سعودی عرب، ایک ترکی اور 2 کی سوئٹزرلینڈ کی سفری تاریخ ہے۔
ٹیسٹنگ کی گنجائش:
محکمہ صحت نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ انکی ہدایت پر ٹیسٹنگ گنجائش بڑھا دی گئی ہے۔ انڈس اسپتال نے اپنی گنجائش 200 سے 800 تک بڑھا دی ہے، ضیاءالدین نے 50 ٹیسٹ، ایس آئی یو ٹی نے ایک روز میں 100 تک، اوجھا نے ایک دن میں 100 تک اور آغا خان نے 200 ٹیسٹ شامل ہیں۔ اس طرح روزانہ کی بنیاد پر گنجائش 400 سے بڑھ کر 1250 ٹیسٹ ہوگئی ہے تاہم انہوں نے پی پی ایچ آئی اور سرکاری اسپتالوں/ ڈی ایچ کیو کو ہدایت کی کہ وہ ٹیسٹ کی سہولت شروع کرنے کے طریقے اور ذرائع تلاش کریں۔ ایس آئی یو ٹی میں ایک 23 بستروں کا قرنطینہ مرکز بنایا گیا ہے۔
مشتبہ افراد:
اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں نمونیا کی علامتوں کے ساتھ 1874 مشتبہ افراد کی اطلاع ملی ان میں سے 43 شدید علامات کے تھے اور ان کے نمونے ٹیسٹ کیلئے بیجھے گئے ہیں۔ نجی اسپتالوں میں 702 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ان میں سے 33 سیمپل ٹیسٹ کئے گئے۔
پروازیں:
ہوائی اڈے کے مجاز افسران نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ آج 24 فلائٹ طے شدہ تھیں جن میں سے 10 منسوخ کردی گئیں اور دوبارہ آنے والی پروازیں 3209 مسافروں کو شہر میں لائیں۔ تمام مسافروں کی اسکریننگ کی گئی اور ان میں سے ایک کو مشتبہ بتایا گیا جسکا سیمپل لیا گیا اور اس کا نتیجہ زیر التوا ہے۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔