سپریم کورٹ:پاناما پیپرز کی سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی
فائل فوٹواسلام آباد:سپریم کورٹ نے پاناما پیپرز کی سماعت جنوری 2017کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔
سپریم کورٹ میں پاناما پیپرزکی سماعت کے دوران چیف جسٹس انورظہیرجمالی نے کمیشن کی تشکیل سے متعلق فریقین رائے دینے کا کہا۔
وزیراعظم اوران کے بچوں کے وکلاء نے کہاکہ عدالت کے کسی کام میں رکاوٹ نہیں بنیں گے،عدالتی فیصلوں کا احترام کریں گے۔
عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے کمیشن کی تشکیل کی مخالفت کی اورکہاکہ کیس ثابت نہ کرسکے توبینچ قانون کے مطابق فیصلہ دے تاہم کمیشن کے قیام کے خلاف ہیں اگرکمیشن تشکیل دیا تواس کی کارروائی کا بائیکاٹ کریں گے،شیخ رشید نے بھی عدالتی کمیشن کے قیام کی مخالفت کی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کمیشن بنانے کا مقصد بعد میں کوئی یہ نہ کہے کیس ثابت کرنے کا موقع نہیں ملا،فیصلہ خود کرنے میں بھی کوئی مسئلہ نہیں،ہم نہیں سننا چاہتے ہمیں سنا نہیں گیا ۔
شیخ رشید نے کہاکہ فیصلہ 5 رکنی بینچ دے اگرہاربھی گئے توقوم سمجھے گی کہ عدالت کا فیصلہ درست تھا۔
چیف جسٹس اپنی ریٹائرمنٹ اوربینچ ٹوٹنے سے متعلق فریقین کوآگاہ کیا اورکہا کہ نئے بینچ کی تشکیل کے بعد نئے سرے سے سماعت ہوگی،وکلاء کودوبارہ دلائل دینا ہوں گے ۔
جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ ممکن نہیں کہ دودنوں میں سماعت کرکے فیصلہ کیا جائے سکے۔
چیف جسٹس نے کہاکہ اگرپتہ نہ چلے کہ پیسہ کہاں سے کدھرگیا توکیا اس پرسزا دے دیں ہوسکتا ہے ۔
جماعت اسلامی کے وکیل نے کمشین کی تشکیل کا کہا ، چیف جسٹس نے واضح کیا کہ کمیشن کی تشکیل عدالت کی صوابدید ہے فریقین کی رضامندی ضروری نہیں۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔